جنوبی افریقہ کیخلاف سنسنی خیز پاکستانی فتح خوش آئند ہے

ٹیم اسی جذبہ کے ساتھ کھیلی تو سیمی فائنل کے لیے بھی کوالیفائی کر...


Sports Reporter August 06, 2012
ٹیم اسی جذبہ کے ساتھ کھیلی تو سیمی فائنل کے لیے بھی کوالیفائی کر لے گی، ذاکرخان

KARACHI: سابق اولمپئنز نے پاکستان ہاکی ٹیم کی فتح کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سنسنی خیز کامیابی کے بعدگرین شرٹس کی لندن اولمپکس کے سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں بڑھ گئیں ہیں۔شہناز شیخ نے کہا زندگی کے ہر شعبے میں امید ہی انسان کو آگے لے کر جاتی ہے اور کھیلوں میں تو قوم کی توقعات کھلاڑیوں سے کچھ زیادہ ہی ہوتی ہیں اور اس پر پورا اترنے کے لیے وہ زیادہ محنت کرتے ہیں اور جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میچ کے دوران جنوبی افریقہ نے گرین شرٹس پر متعدد بار ایک گول کی برتری حاصل کیے رکھی، اس دبائو کے عالم میں بھی قومی ٹیم کا کم بیک کرنا اور میچ کا نتیجہ اپنے حق میں کرنا خوش آئند ہے۔ شہناز شیخ نے کہا کہ پنالٹی کارنر کے بعد پاکستانی ٹیم کا فیلڈ گول بھی کرنا خوش آئند ہے جس کا فائدہ میگا ایونٹ کے اگلے میچ آسٹریلیا کے خلاف ہو سکتا ہے۔ فلائنگ ہارس سمیع اللہ نے کہا کہ گول کیپنگ میں شعبے میں مزید محنت کیے جانے کی ضرورت ہے۔

جنوبی افریقہ نے ہمارے خلاف گول اوپن جگہ ملنے کی وجہ سے کیے۔انھوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ گول کیپر کے ساتھ ڈیفنس کھلاڑی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ذاکر حسین سید نے کہا کہ یہ میچ پاکستان کے لیے مارو یا مر جائو کی حیثیت رکھتا تھا اورکھلاڑی بھی بخوبی جانتے تھے کہ ہار گئے تو سب ختم ہو جائے گا اس لیے اس مشکل میں انھوں نے امید کا دامن نہ چھوڑا اور ایک گول میں خسارے میں جانے کے باوجود کامیابی حاصل کی۔انھوں نے کہا ٹیم اسی جذبہ کے ساتھ کھیلی تو وہ سیمی فائنل کے لیے بھی کوالیفائی کر لے گی۔

وسیم فیروز نے کہا کہ سہیل عباس کی عمر زیادہ ہو گئی ہے لیکن وہ پھر بھی عمدہ کھیل پیش کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ مزید محنت کریں تو آسٹریلیا کے خلاف میچ میں قومی ٹیم کو جتوا سکتے ہیں۔سہیل عباس کی بجائے محمد عمران سے پنالٹی کارنر لگائے جانے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ٹیم میں جو بیسٹ ہوتا ہے اسے ہی یہ اہم ذمہ داری سونپی جاتی ہے اس لیے سہیل عباس سے شارٹ کارنر لگانے کا فیصلہ درست ہے۔انھوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے خلاف میچ بہت اہم ہے اور بڑے میچوں میں شارٹ کارنر کے تین یا چار ہی مواقع ملتے ہیں۔

پاکستان کو ان کا بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے، دانش کلیم نے کہا کہ گو میچ کے دوران پاکستان ٹیم سے کچھ غلطیاں بھی ہوئیں، شارٹ کارنر کا بھر پور فائدہ بھی نہ اٹھایا جا سکا، ڈیفنس میں بھی محنت کی ضرورت ہے۔امپائرز کے کچھ فیصلے پاکستان کے خلاف بھی ہوئے، ان تمام حالات کے باوجود فتح خوش آئند ہے۔

اخلاق احمد نے کہا کہ لندن اولمپکس میں ایتھلیٹکس، شوٹنگ اور سوئمنگ کے کھلاڑی ایک ایک کر کے میگا ایونٹ سے باہر ہو گئے ہیں، ایسے میں قومی ہاکی ٹیم کی کامیابی خوش آئند ہے، انھوں نے امید ظاہر کی کہ آسٹریلیا کو ہرا کر قومی ٹیم لندن اولمپکس کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔انجم سعید نے کہا کہ قومی ٹیم کی فتح پر کھلاڑی اور ٹیم مینجمنٹ مبارکباد کے مستحق ہیں۔