طبی پروگراموں کے ملازمین کا احتجاج لاٹھی چارج متعدد ڈاکٹر زخمی

پریس کلب کے سامنے جمع مظاہرین کوسندھ اسمبلی جانے سے روکنے کیلیے واٹرکینن کااستعمال،ڈاکٹرکلب حسین پرپولیس کا تشدد.


Staff Reporter March 07, 2013
طبی پروگراموں کے ملازمین کوریڈزون میں داخل ہونے سے روکنے کیلیے واٹرکینن کا استعمال کیا جارہاہے ۔ فوٹو : ایکسپریس

محکمہ صحت کے تحت چلنے والے بیماریوں کی روک تھام کے پروگرام کے ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور ملازمت کی مستقلی کے لیے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے پریس کلب سے سندھ اسمبلی جانے کی کوشش کی جسے کراچی پولیس کی بھاری نفری نے تشددکے ذریعے ناکام بنادیا ،پولیس نے ڈاکٹروں پرلاٹھی چارج کیااوران پرواٹرکینن کا استعمال بھی کیا گیا جس سے کئی ڈاکٹرزخمی بھی ہوگئے ،احتجاج کا اہتمام ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے کیا گیا تھا۔

پولیس کی لاٹھی چارج کے نتیجے میں 2 خواتین ڈاکٹر سمیت ینگ ڈاکٹرز کے صدر اور نائب صدر بھی زخمی ہوئے ،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کے رہنما ڈاکٹر لال چندکے مطابق صوبائی محکمہ صحت کے تحت کئی پروگرام چلائے جارہے ہیں۔



جن میں ایڈز کنٹرول ،ماں اور بچے کی صحت اور پیپلز یوتھ ڈیولپمنٹ سمیت مختلف پروگرام شامل ہیں ان پروگراموں کے ملازمین کئی سال سے کنٹریکٹ پرکام کررہے ہیں اورحکومت کے وعدوں کے باوجود انھیں مستقل نہیں کیا جا رہاہے ،تنخواہیں نہ ملنے کے سبب ان کی گزر بسر بھی مشکل ہو گئی ہے وروہ احتجاج پر مجبور ہوگئے ہیں .

انھوں نے کہا کہ بدھ کی صبح ہم نے اسمبلی کے سامنے خود سوزی کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن پریس کلب پر ہی پولیس نے ڈاکٹرزکوبری طرح تشدد کا نشانہ بنایا اور واٹر کینن کے ذریعے پانی پھینکا، انھوں نے دعویٰ کیاکہ ینگ ڈاکٹر کے صدر ڈاکٹر کلب حسین ، ڈاکٹر نورنساء اور ڈاکٹر سکینہ سمیت 5 ڈاکٹروں کوپولیس نے گرفتار بھی کیااور 5 گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیاگیا۔

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ پولیس نے ڈاکٹرکلب حسین پر تشدد کیا جس سے ان کی حالت نازک ہے ،انھوں نے کہا کہ ہم جلد تمام ڈاکٹر تنظیموں سے مل کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے اور سندھ بھر کے اسپتالوں میں او پی ڈی سہولت کا بائیکاٹ کریں گے۔