سانحہ کراچی رکشا ڈرائیور نور عالم گھر کا واحد کفیل تھا

سواری چھوڑنے عباس ٹاؤن آیا تھا، 200روپے کرایہ طے ہوا تھا، اہلخانہ


Staff Reporter March 07, 2013
رکشا ڈرائیور نور عالم ۔ فوٹو : فائل

سانحہ کراچی میں جاں بحق رکشا ڈرائیور گھر کا واحد کفیل تھا۔

مقتول نور عالم سواری چھوڑنے عباس ٹاؤن آیا تھا، تفصیلات کے گزشتہ اتوار کو سچل تھانے کی حدود میں ابوالحسن اصفہانی روڈ عباس ٹاؤن کے قریب واقع رہائشی اپارٹمنٹس اقرا سٹی اور رابعہ فلاور کی درمیانی سڑک پر کیے جانے والے بم دھماکے نتیجے میں مکان نمبر B-171مسجد اظہر رضویہ سوسائٹی گلبہار وحید آباد کے رہائشی رکشا ڈرائیور 38 سالہ سید نور عالم رضوی ولد سید قطب عالم رضوی بھی جاں بحق ہوا۔

مقتول شادی شدہ اور 4 بچوں کا باپ تھا، مقتول کی بہن رخسانہ نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ مقتول نور عالم6بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا بھائی تھا جبکہ مقتول پر بیوی اور 4 بچوں سے ساتھ ساتھ 3 بہنوں کی بھی کفالت کی ذمے داری تھی، انھوں نے کہا کہ اﷲ کے بعد نور عالم ان کے خاندان کا سہارا تھا اور دھماکے میں یہ واحد سہارا بھی چھن گیا، انھوں نے کہا کہ دھماکے روز محلے سے کچھ لوگ گھر آئے تھے اور انھوں نے کہا نور عالم بھائی ہم کو آپ پر مکمل اعتماد ہے، آپ ہماری فیملی کو ابوالحسن اصفہانی روڈ پر واقع عباس ٹاؤن چھوڑ آئیں۔

2

انھوں نے بتایا کہ عباس ٹاؤن جانے کیلیے200روپے کرایا طے ہوا تھا، انھوں نے کہا کہ نور عالم نے دوسروں کے تو بیوی بچوں کو بحفاظت ان کے مقام پر پہنچا دیا لیکن اپنے بیوی بچوں کو بے سہارا چھوڑ کر چلے گئے ، انھوں نے بتایا کہ بم دھماکے میں مقتول کا رکشا بھی مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔

مقتول نور عالم کے اہلخانہ نے کہا کہ ان کے گھر کا واحدکفیل حکومت کی غفلت کے باعث ان سے جدا ہوا ہے اور وہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے اہلخانہ کے ساتھ فوری طور پر انصاف کیا جائے اور نور عالم کا زرتلافی ادا کیا جائے ۔