ابراہیم حیدری میں لڑکی اور لڑکے کے قتل کا حکم دینے والا جرگہ سربراہ گرفتار نہ ہوسکا

ابراہیم حیدری میں جرگے کے حکم پرغنی اور بخت تاج کو کرنٹ لگا کر قتل کیا گیا، جرگے کے 4 ارکان گرفتار کر لیے گئے


Staff Reporter November 15, 2017
قتل کاحکم دینے والاجرگہ سربراہ سرتاج تاحال مفرور، موبائل سے لوکیشن مختلف شہروں میں نظر آئی پولیس پارٹیاں گرفتار نہ کر سکیں۔ فوٹو: فائل

ابراہیم حیدری میں نوجوان لڑکے اور لڑکی کو بجلی کا کرنٹ لگا کر ہلاک کرنے کے معاملے پر جرگے کا سربراہ 3 ماہ گزرنے کے بعد بھی گرفتار نہیں ہو سکا۔

15 اگست کو ابراہیم حیدری میں جرگے کے حکم پر غنی الرحمن اور بخت تاج کو محبت کرنے کی پاداش میں بجلی کے جھٹکے دے کر قتل کیا گیا اور رات کی تاریکی میں قائد آباد قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا پولیس کو مخبر کے ذریعے اطلاع ملی جس کے بعد پولیس نے اپنے طور پر تحقیقات شروع کی تو واقعہ کھل کر سامنے آیا مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیش شاہ لطیف ٹاؤن تھانے کو منتقل کی گئی اس دوران پولیس نے جرگے کے 4 ارکان کو گرفتار کیا جبکہ 13 ستمبر کو مقتولین کی قبرکشائی کی گئی دونوں مقتولین کی کیمیائی تجزیاتی رپورٹ بھی پولیس کو موصول ہوگئی ہے جس میں دونوں کی موت کرنٹ لگنے کے باعث ثابت ہو گئی ہے۔

جرگے کا سربراہ سرتاج اب تک قانون کی گرفت میں نہیں آسکا ہے پولیس نے اس کی گرفتاری کے لیے کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی چھاپے مارے ملزم کے موبائل فون کی لوکیشن بھی حاصل کی گئی جوکہ مختلف شہروں میں نظر آتی رہی لیکن ملزم ہر بار پولیس سے بچنے میں کامیاب ہوگیا۔

خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں میں پولیس پارٹیاں گئیں لیکن ناکام واپس آگئی واقعے کو 3 ماہ گزرگئے لیکن اصل مرکزی ملزم اب تک قانون کی گرفت سے آزاد ہے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی تلاش میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور جلد ہی اسے گرفتار کرلیا جائے گا۔