سپریم کورٹ کا کرپٹ پولیس افسران کیخلاف 2 ہفتے میں کارروائی کا حکم

سندھ حکومت کو 2 ہفتوں کی مہلت، وفاق سے سابق آئی جی غلام حیدرجمالی سمیت دیگراعلیٰ افسران کیخلاف کارروائی کی رپورٹ طلب


Staff Reporter November 17, 2017
اعلیٰ افسران کو معاف نہیں کیا جاسکتا،کسی کو عوام کی خدمت میں دلچسپی نہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، جسٹس گلزارکے ریمارکس۔ فوٹو : فائل

LOS ANGELES: سپریم کورٹ نے جرائم میں ملوث پولیس کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت کو 2 ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے روبرو جرائم میں ملوث پولیس کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی سے متعلق سماعت ہوئی۔ عدالت نے وفاق سے سابق آئی جی غلام حیدرجمالی سمیت دیگر اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کرلی۔

سیکریٹری داخلہ نے کہاکہ گریڈ17کے35 افسران کا معاملہ محکمہ سروسزکے پاس ہے۔ گریڈ 18 کے افسران کے خلاف وزیرداخلہ کارروائی کے مجاز ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ وزیرداخلہ کیسے کارروائی کریں گے؟ وہ تو پسندنا پسند کی بنیادپرفیصلے کریں گے۔

متاثرہ اہلکار کے وکیل نے کہاکہ اعلیٰ پولیس افسران کے خلاف کارروائی نہیں ہورہی۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آپ کو معلوم نہیں کہ اعلیٰ افسران کا معاملہ سیاستدانوں کے پاس ہے اور وزیر کیسے کام کرتا ہے سب کو معلوم ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ پولیس افسران کے خلاف الزامات کی تفصیلات کہاں ہیں؟ جسٹس گلزار نے کہا کہ کسی کو عوام کی خدمت میں دلچسپی نہیں، ہر کوئی اپنا سوچ رہا ہے۔

عدالت نے سیکریٹری داخلہ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ اوپر سے نیچے اتر آئیں، آپ عوام کے خادم ہیں پبلک ماسٹر نہ بنیں۔ جسٹس گلزار نے ریمارکس میں کہا کہ آئی جی صاحب آپ کو اندازہ ہے کتنی گڑبڑ ہے،کتنا امتیازی سلوک ہورہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہاکہ اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی کیلیے سفارشات بھیج دی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہاں اتنی بڑی بڑی غلطیاں ہیں پولیس کے پورے محکمے کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیکریٹری صاحب انصاف کریں سب کے ساتھ یکساں سلوک کریں اعلیٰ افسران کو معاف نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے حکومت کو کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کے لیے 2 ہفتے کی مہلت دے دی اور صوبائی حکومت سے متعلقہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی اور الزامات کی تفصیلات بھی طلب کرلی گئیں جب کہ سپریم کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی کارروائی کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سماعت کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا کہ جرائم میں ملوث جن پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرنا تھی وہ ہم نے کی۔ گریڈ 16 اور اس سے کم گریڈ کے 184 پولیس افسران کو سزائیں دے چکے ہیں۔ گریڈ16سے اوپر سینئر افسران کے خلاف کارروائی میرا اختیار نہیں۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ جن پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا میں مجاز نہیں ان کے خلاف عدالت نے حکومت سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ گریڈ18سے21 تک 35 افسران ایسے جن کے خلاف کارروائی ہونا ہے۔ جرائم میں ملوث گریڈ 17 کے پولیس افسران کی تعداد 31 ہے۔ دریں اثنا سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پولیس کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کی سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ نے گریڈ17کے افسران کے خلاف کارروائی کی رپورٹ پیش کردی۔

رپورٹ کے مطابق جرائم اورکرپشن میں ملوث افسران میں ڈی ایس پیزعبدالواجد، فیصل نور، آغابشیر، فرحان بروہی، لیاقت علی، سپرنٹنڈنٹ عبدالستار گوندل، ڈی ایس پیزفرح امبرین، غلام شبیر، ایس پی فارنر سیکیورٹی طارق مغل، ڈی ایس پیز شریف عباسی، ناصر بروہی، سعید احمد شیخ ، غلام رسول پنہور شامل ہیں۔ ان افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جارہی ہے۔ عدالت نے2ہفتوں میں کارروائی مکمل کرکے رپورٹ اور جرائم کی تفصیلات بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔