کراچی میں10قتل لیاری سے ٹارچر سیل برآمد 4افراد بازیاب12ملزم گرفتار

مسلح ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار اور عوامی نیشنل پارٹی کے علاقائی رہنما سمیت12 افراد ہلاک اور16زخمی ہو گئے۔


Staff Reporter March 08, 2013
مسلح ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار اور عوامی نیشنل پارٹی کے علاقائی رہنما سمیت12 افراد ہلاک اور16زخمی ہو گئے۔ فوٹو : فائل

پاک کالونی میوہ شاہ قبرستان سے رینجرز کے مغوی2 اہلکاروں کی لاشیں ملیں جس کے بعد رینجرز کی ایک ہزار سے زائد کی نفری نے لیاری کا محاصرہ کر کے 22 داخلی راستوں کو سیل کر دیا اور سرچ آپریشن کے دوران گینگ وار کے ملزمان کے ٹارچر سیل سے زنجیروں میں جکڑے 4 مغویوں کو بازیاب کر کے12 ملزمان کو حراست میں لے لیا۔

شہر کے مختلف علاقوں میں مسلح ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار اور عوامی نیشنل پارٹی کے علاقائی رہنما سمیت12 افراد ہلاک اور16زخمی ہو گئے۔ رینجرز کے گینگ وار کے ملزمان کے خلاف آپریشن پر لیاری، ماری پور روڈ ،گولیمار، کھارادر ، بلدیہ ٹاؤن اور ملیر نیشنل ہائی وے پر احتجاج کیا گیا اور شدید فائرنگ کرکے دکانیں بند کرا دی گئیں، احتجاج کے دوران سڑک پر ٹائر جلائے اور دھرنا دیدیا ،نیشنل ہائی وے پر رینجرز نے لاٹھی چارج کر کے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔

پاک کالونی تھانے کی حدود میوہ شاہ روڈ تاج الدین بابا مزار کے قریب 2 لاشوں کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو تحویل میں لے کر پولیس کارروائی کے لیے سول اسپتال پہنچایا جہاں ان کی شناخت44سالہ منیر احمد بلوچ ولد در محمد بلوچ اور35سالہ اعجاز بلوچ ولد رفیق بلوچ کے نام سے کر لی گئی مقتولین پاکستان رینجرز سندھ ایف ایس ونگ کے اہلکار اور ناظم آباد میں واقع رینجرز ہیڈ کوارٹر میں تعینات تھے ، مقتولین ناظم آباد اور شریف آباد کے علاقے میں ڈیوٹی انجام دیتے تھے ، مقتول منیر احمد کا آبائی تعلق اندرون سندھ پنو عاقل جبکہ اعجاز بلوچ کا آبائی تعلق بلوچستان سے تھا۔ رینجرز ذرائع کے مطابق مقتولین منگل کو کسی کام سے لی مارکیٹ آئے تھے جہاں سے انھیں نامعلوم ملزمان نے اغوا کر لیا تھا۔

رینجرز کے افسران سول اسپتال پہنچے جہاں دونوں اہلکاروں کو شناخت کر لیا گیا ، مقتولین کو ملزمان اغوا کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا یا، مقتولین کی شناخت مٹانے کے لیے چہرے پر پہلے کند آلے کے وار سے آنکھیں نکال لیں پھر بھاری چیز مار کر چہرہ مسخ کر دیا تھا ، مقتولین کے لاشیں پولیس کارروائی کے بعد رینجرز کے افسران کے حوالے کر دی گئیں بعد ازاں رینجرز کے اعلیٰ افسر کی ہدایت پر رینجرز کی ایک ہزار سے زائد کی نفری نے لیاری کا محاصرہ کر کے22داخلی راستوں پر پہرہ لگا کر پرانا دھوبی گھاٹ ، جونا بغدادی ، موسیٰ لین اور الفلاح روڈ پر سرچ آپریشن شروع کر دیا جس پر لیاری گینگ وار کے ملزمان نے لیاری کے مختلف علاقوں میں اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی رینجرز نے بھی جوابی فائرنگ کی۔

فائرنگ کے تبادلے کے دوران6سالہ ایمن دختر جاوید کاٹھیاواڑی ، 70سالہ حاجی انار گل ولد محمد اسماعیل گل ، 23سالہ عالمگیر ولد نذیر گل سمیت5افراد زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر لیاری جنرل اسپتال لے جایا گیا جہاں سے ابتدائی طبی امداد کے بعد سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ، رینجرز نے سرچ آپریشن کے دوران گھر گھر تلاشی لی اس دوران مذکورہ علاقوں سے ذاکر بلوچ اور نعمان سمیت12افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ۔ سرچ آپریشن کے دوران ایم پی فائیو مشین گن کے 2 میگزین ، نصف درجن سے زائد واکی ٹاکی سیٹ ان کے بیٹریاں اور چارجر برآمد کر کے قبضے میں لے لیے۔

ذرائع نے بتایا کہ سرچ آپریشن کے دوران رینجرز نے بغدادی کے علاقے ٹیلی فون ایکسچینج والی گلی جامع عربیہ شیدی مسجد کے عقب میں واقع لیاری گینگ وار کے ملزم شیراز کامریڈ کے رام گڑھ کے نام سے قائم ٹارچر سیل دریافت کر کے وہاں زنجیروں میں جکڑے مغوی12سالہ نصر اﷲ ولد عبد الغفور ، 10سالہ اسد اﷲ ولد محمد ولی ، فتح خان ولد زرین خان اور جاوید ولد تاج گل کو بازیاب کرا لیا۔ رینجرز کے لیاری میں آپریشن کے خلاف کے مختلف علاقوں لیاری ، لی مارکیٹ ، جونا مارکیٹ ، کھارادر ، ماڑی پور روڈ پر روڈ ، پرانا گولیمار ، بلدیہ ٹاؤن اور ملیر نیشنل ہائی وے پر خواتین بچوں سمیت دیگر لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر پتھراؤ کر کے ٹریفک معطل کر دیا اور دھرنا دیا ۔ کھارادر کامل گلی اور اس سے متصل علاقوں میں نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی۔

جس سے علاقے کی دکانیں اور دیگر کاروبار بند ہو گیا ، پورے لیاری میں کاروبار بند کرا دیا گیا ، لیاری میں جگہ جگہ ٹائر جلا کر احتجاج کیا گیا۔ ماری پور روڈ پر فائرنگ اور پتھراؤ کر کے ٹریفک معطل کرا دیا گیا اور سڑک پر ٹائر جلائے جس کے باعث ماری پور روڈ پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا ، نامعلوم افراد نے متعدد کار سواروں اور موٹر سائیکل سواروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان سے لوٹ مار کی۔ ملیر نیشنل ہائی وے ملوک ہوٹل سے سلمان ٹاور اور شاہ لطیف تھانے کی حدود قائد آباد مرغی خانہ اسٹاپ تک پتھراؤ کر کے ٹریفک معطل کرا دیا اور ٹائر نذر آتش کرکے دھرنا دیا اطلاع ملنے پر رینجرز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو لاٹھی چارج کر کے منتشر کر دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے ڈاکس تھانے کے سامنے ، لی مارکیٹ اور نیپئر کے علاقے میں بھی گاڑیوں کو آگ لگانے کی کوشش کی تاہم رینجرز کی نفری نے موقع پر پہنچ کر ہنگامہ اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کو منتشر کردیا ۔ سچل تھانے کی حدود بھٹائی آباد پولیس چوکی کے قریب کے رہائشی پولیس کے اے ایس آئی 45 سالہ محرم علی ولد اسحاق چنڑ کو نامعلوم ملزمان نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب گھر سے بلا کر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ، پولیس کے مطابق مقتول سیکیورٹی زون میں تعینات تھا جبکہ اس کا آبائی تعلق اندرون سندھ مورو سے تھا مقتول کا ذاتی دشمنی پر قتل کیا گیا ہے۔

کھو کھرا پار نمبر4مکان نمبر B,22/7 ملیر توسیع کے رہائشی42سالہ عبد العلیم عرف پپو ولد محمد اشرف کو نامعلوم ملزمان نے گھر کے دروازے پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ، مقتول کے بھائی محمد حنیف نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول نے2 شادیاں کیں تھیں پہلی بیوی سے4اور دوسری سے3بچے ہیں مقتول روٹ نمبر پی ون منی بس کا ٹائم کیپر تھا کھو کھرا پار پولیس نے مقتول کے بھائی محمد حنیف کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر37/13درج کر لی۔

منگھو پیر کے علاقے خیر آباد سے2افراد کی لاشیں ملیں اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاشوں کو تحویل میں لے لیا پولیس کے مطابق مقتولین کی شناخت 25 سالہ مقبول احمد بلوچ ولد نواب احمد بلوچ اور24 سالہ بابو افتخار احمد بلوچ ولد منصور احمد بلوچ کے نام سے کر لی گئی مقتولین کو نامعلوم ملزمان نے اغوا کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گلے میں رسی کا پھندا لگا کر اور فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا اور لاشیں پھینک دیں، مقتول مقبول احمد کا آبائی تعلق بلوچستان کے علاقے خاران اور بابو افتخار کا تعلق پنجگور سے تھا ، مقتولین کا نام بلوچستان کی مسنگ پرسن لسٹ میں شامل ہے۔

پاک کالونی کے علاقے میوہ شاہ روڈ کے ایم سی فلیٹ کے قریب سے 40سالہ عبد الستار ولد محمد ایاز کی لاش ملی ہے مقتول گارڈن عثمان آباد شیشے والی گلی کا رہائشی تھا جبکہ اس کا آبائی تعلق ملتان سے تھا ، عبد الستار جمعرات کی صبح رکشے میں جا رہا تھا کہ ریکسر پل کے قریب نامعلوم ملزمان نے اغوا کرلیا تھا۔ موچکو کے علاقے گلشن غازی میں نامعلوم ملزمان نے روٹ نمبرX-23 کی منی بس میں سوار32سالہ جاوید اقبال ولد بشیر احمد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا اور فرار ہو گئے مقتول گلشن غازی ہزارہ چوک کا رہائشی تھا ، آبائی تعلق سوات سے تھا ، مقتول کو ذاتی دشمنی پر قتل کیا گیا ہے۔

موچکو کے علاقے اتحاد ٹاؤن مسجد و مدرسہ عمر فاروق کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے52سالہ مجاہد خان آفریدی ولد فیض الرحمٰن ہلاک اورمولانا محمد ادریس ولد اﷲ ڈایو ، 16سالہ انعام اﷲ سمیت3زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق مقتول مجاہد خان اتحاد ٹاؤن کا رہائشی اور7 بچوں کا باپ تھا مقتول عوامی نیشنل پارٹی پی ایس90 یونین کونسل نمبر2 کا نائب صدر تھا۔ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے خواجہ اجمیر نگری کے علاقے نارتھ کراچی پاور ہاؤس چورنگی کے قریب جاوید احمد، کورنگی نمبر ساڑھے3میں مبین ولد شوکت زخمی ہو گیا ۔

کورنگی صنعتی ایریا تھانے کے علاقے شریف آباد کالونی کچی آبادی میں رہائش پذیر کریما جان بی بی کے گھر میں داخل ہوکر 2 نامعلوم ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 52 سالہ کریما جان بی بی اور 35 سالہ دلارا بی بی جاں بحق ہوگئی جبکہ 40 سالہ یاسمین زخمی ہوگئی ، واردات کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ، فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس کے مطابق علاقہ مکینوں نے بتایا کہ کریما جان بی بی مکان کی اوپری منزل پر رہائشی پذیر تھی۔

جبکہ ہلاک ہونے والی دوسری خاتون ان کے گھر کہیں اور سے آئی ہوئی تھی جسے وہ نہیں جانتے ، پولیس کے مطابق زخمی ہونے والی خاتون یاسمین گراؤنڈ فلور پر رہتی ہے جس نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ 2 نامعلوم افراد کریما جان بی بی کے گھر پر گئے اور کچھ دیر کے بعد وہاں سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں اور جب وہ گھبرا کر باہر نکلی تو دونوں ملزمان نے مجھ پر بھی فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے، پولیس کا کہنا ہے دونوں گھروں میں کوئی مرد موجود نہیں تھا اور واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔

شاہ فیصل کالونی کے علاقے 3 نمبر عظیم پورہ قبرستان کے قریب نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے35سالہ وقار ہلاک ہوگیا۔نارتھ ناظم آباد کے علاقے بلاکH میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے اسد اﷲ ، ڈاکس کے علاقے محسن چوک پر ذلیخاں بی بی شدید زخمی ہوگئی ، پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کے سر پر گولی لگی ہے اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ کلری کے علاقے بہار کالونی میں جنید نامی شخص ہاتھوں پر گولیاں لگنے سے زخمی ہوگیا ۔ سائٹ کے علاقے باوانی چالی اور پیرآباد کے علاقے منگھوپیر روڈ پر فائرنگ سے 2 افراد زخمی ہوگئے۔ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو عباسی شہید، سول اور جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔