اورنج ٹرین منصوبہ اور اُس پر اعتراضات

ڈاکٹر منصور نورانی  بدھ 19 اکتوبر 2016
وفاقی حکومت جب لاہور اورنج ٹرین کے لیے 300ملین ڈالر دے سکتی ہے تو کراچی کے لیے کیوں نہیں۔ فوٹو؛ فائل

وفاقی حکومت جب لاہور اورنج ٹرین کے لیے 300ملین ڈالر دے سکتی ہے تو کراچی کے لیے کیوں نہیں۔ فوٹو؛ فائل

پاکستان کا سب سے بڑا شہرکراچی ایک طویل عرصے سے شہری، صوبائی اوروفاقی حکومتوں کی توجہ سے محروم ہے۔ یہاں دس بیس سالوں سے کسی بھی صوبائی یا وفاقی حکومت نے کوئی قابلِ ذکر ترقیاتی نہیں کام کیا۔لسانی، علاقائی اور صوبائی منافرت کا شکار یہ شہرآج ایک کھنڈرکی تصویرپیش کررہا ہے۔ شہر کی بیشتر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔کھیل کے میدانوں، باغوں اور تفریح گاہوںمیں بغیرکسی مناسب منصوبہ بندی کے بڑی بڑی عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں۔ کئی بستیوں میںپینے کا صاف پانی توکجا عام استعمال کا پانی بھی میسر نہیں۔ ٹرانسپورٹ کا حال ناقابلِ بیان ہے۔

صفائی ستھرائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر،گند پھیلاتی کچرا کنڈیاں اور باہر اُبلتے گٹر دکھائی دیتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پرکچرا اُٹھانے کا کوئی معقول بندوبست بھی نہیں ہے۔ ہفتہ ہفتہ گزرجاتا ہے یہ کچرا کنڈیاں سڑکوں پر پھیل کر تعفن پھیلاتی رہتی ہیںاورکوئی اُنہیں ٹھکانے لگانے والا نہیں۔سندھ کے وزیرِاعلیٰ تبدیل ہو گئے لیکن شہرکی حالت نہیں بدلی۔ مراد علی شاہ کے آنے کے بعدشروع شروع میں تو ایسا لگا کہ اب شاید کراچی کی قسمت بدل جائے گی لیکن کام کی رفتار دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ بس بیان بازی تک ہی محدودہے کراچی جیسا تھا ویسا ہی رہے گا۔

وفاقی حکومت جس سیاسی پارٹی کی ہے اُسے چونکہ یہاں سے ووٹ نہیں ملتے لہذا اُسے کراچی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اُس کا یہی احسان ہی شاید بہت بڑا ہے کہ اُس نے آرمڈ فورسس کی مدد سے یہاں کسی حد تک امن قائم کردیا ہے۔ اِس کے علاوہ اُسے یہاں کے لوگوں کی حالتِ زار بدلنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اُس کی ساری توجہ صرف صوبہ پنجاب اور اُس کے دارالحکومت لاہور ہی پر مرکوز ہے۔جو ترقیاتی کام بھی کرنے ہیں پنجاب یا لاہور ہی میں کرنے ہیں۔ سڑکیں بنانی ہیں تو لاہورمیں، فلائی اوورز یا انڈر پاس بنانے ہیں تو وہ بھی لاہور میں، میٹرو بس کا سب سے پہلے اجرا بھی لاہور میں۔اورنج ٹرین بنانی ہے تو وہ بھی لاہور میں۔کیا لاہور سے پہلے اورنج ٹرین کراچی کی ضرورت نہیں تھی۔

اگر منصوبے کے حق میں وکالت کرتے ہوئے یہ کہا جائے کہ یہ ایک مکمل صوبائی پروجیکٹ ہے، وفاقی حکومت کااِس سے کوئی تعلق نہیں تو سراسر ذیادتی ہوگی۔ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں یہ منصوبہ 500ملین ڈالر کا بہت مہنگا منصوبہ ہے۔ صوبائی حکومت کے پاس تو اِس پر عملدرآمد کے لیے فنڈز ہی میسر نہ تھے۔اِس کے باوجود یہ منصوبہ شروع کردیا گیا۔مصدقہ ذرایع کے مطابق 500ملین ڈالر میں سے 300ملین ڈالر وفاقی حکومت نے فراہم کیے اور 200 ملین ڈالر چائنا کی ایک بینک’’امپورٹ ایکسپورٹ بینک‘‘ سے حاصل کیے گئے۔ اور اِس مقصد کے لیے اِسے پاک چائنا کوریڈور کے ایک حصے کے طور پراُس میں شامل کردیا گیا۔گوکہ 200ملین ڈالرکا سوفٹ لون پنجاب حکومت آسان شرائط پر ادا کریگی لیکن اِس منصوبے کو ’’سی پیک‘‘ میں شامل کرنے کی کیا توجیہہ اور منطق ہے، یہ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔

27 کلومیٹر کا یہ منصوبہ صرف رائیونڈ اور لاہور کے ارد گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔ اِس سے چائنا یا وسط ایشیا کی ریاستوں کوگوادر بندر گاہ تک کیسے رسائی ممکن ہو پائے گی۔یہ منصوبہ ویسے بھی عوام کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کی غرض سے شروع کیا گیا ہے ناکہ مال برداری کے لیے۔ حکومت کے ایسے ہی مبہم اور متنازع بیانات اور اقدام ’’سی پیک‘‘کے منصوبے کو مشکوک بنا رہے ہیںاوردیگر صوبوں کی جانب سے اُٹھائے جانے والے اعتراضات کوتقویت بخش رہے ہیں۔سی پیک کے حوالے سے بھی حکومت کی ترجیحات اور توجہ پنجاب تک ہی مرکوز ہے۔

مشرقی روٹ کی تعمیر کی رفتار مغربی روٹ کی نسبت بہت تیز ہے۔ سی پیک کو متنازعہ بنانے سے بچانے کے لیے حکومت کو اِس جانب توجہ دینی ہوگی۔ ویسے بھی لاہور اورنج ٹرین کا منصوبہ آج کل کھٹائی میں پڑچکا ہے۔ تاریخی عمارتوں اور اثاثوں کے تحفظ کے سوال پر اُسے لاہور ہائی کورٹ نے ایک حکمِ امتناعی کے ذریعے روک دیا ہے۔ صوبائی حکومت اپیل کی پٹیشن لے کر سپریم کورٹ پہنچ چکی ہے۔اُسے وہاں بھی اپنی صفائی میں دلائل پیش کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ہوسکتا ہے سپریم کورٹ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کردے۔

وفاقی حکومت جب لاہور اورنج ٹرین کے لیے 300ملین ڈالر دے سکتی ہے تو کراچی کے لیے کیوں نہیں۔ کراچی میں تو پہلے سے چلنے والی ’’سرکلر ٹرین‘‘ بھی بندکردی گئی ہے۔اگر یہی ’’سرکلر ٹرین‘‘ ہی دوبارہ فعال کردی جاتی توکراچی کی دکھوںکا کچھ مداوا ہو سکتا تھا، حالانکہ اُسے دوبارہ شروع کرنے میں کوئی زیادہ پیسہ بھی خرچ نہیں ہونا تھا کہ انفراسٹرکچر پہلے سے موجود ہے۔بس تھوڑی سی کوشش اور توجہ سے یہ دوبارہ شروع کیا جاسکتا تھا۔

کچھ ناجائز قابضین نے اِس کی زمین پر قبضہ کرلیا ہے۔ اُنہیں ہٹا کر اور ریلوے ٹریک کو دوبارہ صاف ستھرا بناکے یہ منصوبہ تھوڑی سے توجہ اور محنت سے دوبارہ فعال بناجاسکتا تھا۔ ایوب خان کے دور میں بنائے جانے والا ٹرانسپورٹ کا یہ نظام دس بیس سالوں سے بند پڑا ہے۔ اِن دس بیس سالوں میں کئی بار یہ خبریں آتی رہیں کہ کسی جاپانی یاغیر ملکی فرم کے ذریعے تمام شرائط طے ہو چکی ہیںاور یہ کام اب شروع ہونے ہی کو ہے، لیکن معاملہ وہیں کا وہیں روکا ہواہے۔ اب تو شاید ایسا لگ رہا ہے کہ حکمرانوں اِس پر سوچنا بھی چھوڑ دیا ہے۔

ہمارا حکومت کے اکابرین سے سوال ہے کہ کراچی کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے۔اُسے کس گناہ کی پاداش میں لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔ایوب خان دورکے زمانے کی اکا دکا بسیں چند ایک روٹ پر چل رہی ہیں ورنہ عوام کی اکثریت ٹوٹی پھوٹی منی بسوں میں سفر کرنے پر مجبورہے۔یہاںکالی پیلی ٹیکسیاں بھی پچاس سال پرانی ہیںجن میں بیٹھ کر آدمی کے کپڑے بھی میلے ہو جاتے ہیں۔1992ء میں جو یلوکیب اسکیم کے تحت نئی ٹیکسیاں لائی گئی تھیں وہ بہتر تھیں ان میں سے کچھ تو ایسی غائب ہوگئیں کسی کو پتہ نہیں، لیکن پھر بھی ایک بڑی تعداد نظر آجاتی ہے ان کی۔ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک جام روز کا معمول ہے۔ چند میلوں کاسفر گھنٹوں میں طے ہوتاہے۔ اِس سے تو بہترہوتاکہ ہم بھی لاہورکے شہری ہوتے۔

کراچی کے ساتھ ہونے والے سلوک کو’’سوتیلی ماں والا سلوک‘‘ کہنا لفاظی نہیں ایک تلخ حقیقت ہے۔ پہلے یہاں کوٹہ سسٹم رائج کرکے یہاں کے پڑھے لکھے لوگوں کی حق تلفی کی گئی۔ پھر لاوارث چھوڑ کر اِسے اِس کے کس ناکردہ جرم کی سزا دی گئی ہے۔اب اِس کا کوئی پرسانِ حال بھی نہیں۔شہری شکایت کریں تو کس سے کریں۔یہ شہر خود اپنے طور پر بے ہنگم طریقے سے بڑھ رہا ہے۔ کوئی سسٹم یامنصوبہ بندی نہیں ہے۔صحت کی سہولتیں بھی یہاں کے آبادی کے لحاظ سے بہت کم ہیں۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت نا قابلِ گفتہ بہ ہے۔پرائیویٹ اسپتالوں کی فیس بھی عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہے۔بھاری بھرکم فیسوں کے باوجود وہاں کمرہ یا بستر دستیاب نہیں ہیں۔کئی کئی گھنٹوں کے انتظارکے بعد کسی دوسرے مریض کے اخراج کی صورت میں کوئی بستر نصیب ہوتا ہے۔

یہ حال یہاں کے سب سے بڑے پرائیویٹ اسپتال کا ہے۔غریب آدمی تو سرکاری اسپتالوں میں دھکے کھاکھا کرعلاج کے بناء ہی مرجاتا ہے۔ایسے میں ہم جب یہ دیکھتے ہیں کہ وفاقی حکومت اپنے سارے وسائل اور آمدنی کے ذرایع صرف اور صرف ایک شہر یا ایک صوبے پر خرچ کررہی ہے تو شکوہ کیے بناء رہا نہیں بھی جاسکتا۔ہماری وفاقی حکومت سے التماس ہے کہ وہ اپنے بارے میں یہ تاثرزائل کرنے کی کوشش کرے ۔اپنے عمل اور اپنی کارکردگی سے لوگوں کی یہ شکایات دور کرے کہ وہ صرف ایک صوبے کی حکومت ہے۔

صرف سی پیک بناکے یہ کہنا کہ وفاق نے سارے پاکستان کی خدمت کی ہے، مناسب نہیں کیونکہ یہ منصوبہ ہم سے زیادہ چین کے لیے اہم ہے۔ گوادر پورٹ چونکہ بلوچستان میں واقع ہے لہذا اُس تک رسائی کے لیے سارے صوبوں میں کام کرنا حکومت کے لیے ضروری اور مجبوری تھا۔مگر یہاں بھی مشرقی روٹ کو زیادہ اہمیت دینا یا اورنج ٹرین کو سی پیک کا حصہ بنانا حکومت کی نیت اور کریڈیبلٹی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔