صفحۂ اول
تازہ ترین
بجٹ
کھیل
فیفا ورلڈکپ
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
خان صاحب نے ایک تو صدارتی نظام کا شوشہ چھوڑا، انھوں نے طالبان والا بھی شوشا چھوڑا
خود ہائبرڈ نظام بھی اس کی ہی ایک شکل ہے جو اس ملک کو اس دھانے پر لے آیا ہے
کچھ ان حکمرانوں کا بھی قصور ہوتا ہے اور کچھ ان کے خلاف پروپیگنڈہ ہوتا ہے، سیاستدانوں کے خلاف محاذ کھڑے ہوجاتے ہیں
یہ ایسے خطرات ہیں جس سے روہنگیا جیسی ہجرتیں ہوسکتی ہیں۔
دوہزار اکیس کا یہ سال بوری بستر باندھے بیٹھا ہے
آج بنگلہ دیش، ویتنام کی طرح دنیا میں ان دو قوموں میں شمار ہوتا ہے جن کی معیشت تیزی سے ابھر رہی ہے۔
ڈھاکا سے میں کل ہی لوٹا ہوں اور گیا بھی تو دو دنوں کے لیے تھا کہ وہاں عالمی امن کانفرنس تھی۔
پاکستان کی سیاسی قیادت کو فطری طور پے پھلنے اور پھولنے دیں تاکہ سیاسی پراسس جاری رہے۔
ہمارا موقف آج بھی انتہا پرستی پر واضح نہیں۔ یہ یقینا خان صاحب کے زمانوں میں اور بگڑا ہے۔
ہم تجزیہ نگاروں کی باتیں بھی عجیب ہوتی ہیں، حقیقت چھوڑ کے الفاظ کی رو میں چل پڑتے ہیں