سرکاری اسپتالوں میں بستروں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا

بڑھتے مریض اور مہنگی دوائوں کی خریداری کے پیش نظر بجٹ کم دیا جارہا ہے، اسپتال انتظامیہ


طفیل احمد August 09, 2026

کراچی:

سندھ حکومت کے جانب سے ہرسال سرکاری اسپتالوں کے بجٹ میں اضافہ کرنے کے باوجود اسپتالوں میں بستروں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا، دوسری جانب مختلف سرکاری اسپتالوں میں بجٹ کی غیر مساوی تقسیم بھی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ 

اسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں مریضوں کے بڑھتے ہوئے دبائو اور مہنگی ادویات کی خریداری کے پیش نظربجٹ کم فراہم کیا جارہا ہے جبکہ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اسپتال میں بستروں کی تعداد کے حساب سے بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ 

کراچی سمیت سندھ کے ٹیچینگ اور ضلعی اسپتالوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ مریض حصول علاج کے لیے رجوع کرتے ہیں جس کی وجہ سے بیشتر اسپتالوں میں مریضوں کو داخلے کے لیے بستر میسر نہیں ہوتے۔

کراچی کے ڈاکٹر روتھ فاؤ سول اسپتال، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، این آئی سی وی ڈی سمیت دیگر اسپتالوں میں گذشتہ دس سال کے دوران بستروں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تاہم سول اسپتال کے شعبہ حادثات اور جناح اسپتال کی ایمرجنسی اور امراض قلب کے ایمرجنسی میں آنیوالے مریضوں کو ابتدائی طبی امداد کیلیے بستروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔

جبکہ حکومت سندھ ہر سال ان اسپتالوں کے بجٹ میں 10 سے 15 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، ان سرکاری اسپتالوں کے بستروں میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مریضوں کو بستروں مہیا نہیں ہوپاتے جس کی وجہ سے ان میں سے بیشتر مریض نجی اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔

کراچی میں این آئی سی ایچ اسپتال کے شعبہ حادثات سمیت دیگر سرکاری اسپتالوں میں بچوں کی ایمرجنسی کیلیے مجموعی طور پر صرف 500 بستر مختص ہیں،حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے بچوں کی شعبہ حادثات میں لائے جانے والے بچوں کے بستروں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

یہی وجہ ہے کہ بچوں کی ایمرجنسی میں ایک بستر پر دو سے تین بچوں کو علاج کیلیے داخل کرلیاجاتا ہے۔

اس وقت کراچی کی تقریبا 3 کڑور آبادی کے لیے 6 ضلعی اسپتالوں اور ٹیچینگ اسپتالوں جس میں جناح اسپتال، سول اسپتال، لیاری جنرل اسپتال اور عباسی شہید اسپتال میں 7 ہزار 750 بستر موجود ہیں، یہ بستر ان سرکاری اور ضلعی اسپتالوں کے میڈیکل اور سرجیکل یونٹوں میں موجود ہیں۔ 

ان بستروں کی تعداد میں10سال سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ زیادہ تر مریضوں کو ان ہی یونٹوں میں داخل کیے جاتے ہیں، ان اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

جبکہ اسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ناکافی بجٹ کی وجہ سے مریضوں کو دوران علاج مختلف مسائل کا شکایت رہتی ہے،طبی ماہرین کے مطابق گذشتہ 4 سال کے مقابلے ادویات کی قیمتوں میں 50 فیصد جبکہ سرجیکل سامان کی قیمتوں میں 60 سے 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین کے مطابق آبادی کے تناسب سے اسپتالوں میں بستروں کی مناسب تعداد، تربیت یافتہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل عملے کی دستیابی صحت کے نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔