صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
پاکستان کی سیاسی قیادت کو فطری طور پے پھلنے اور پھولنے دیں تاکہ سیاسی پراسس جاری رہے۔
ہمارا موقف آج بھی انتہا پرستی پر واضح نہیں۔ یہ یقینا خان صاحب کے زمانوں میں اور بگڑا ہے۔
ہم تجزیہ نگاروں کی باتیں بھی عجیب ہوتی ہیں، حقیقت چھوڑ کے الفاظ کی رو میں چل پڑتے ہیں
فطرت کے حسن سے اس کی روح مالا مال تھی وہ جانوروں سے پیار کرتا تھا۔
خان صاحب تو میاں صاحب، زرداری، مشرف سب کو اخراجات بڑھانے میں پیچھے چھوڑ گئے۔
آج یہ ملک جس دوراہے پر کھڑا ہے اس کی وجہ الفاظ کو ان کی روحانی معنی دینے سے اجتناب ہے۔
مارکیٹ میکنزم میں موجود خامیوں اور لوپ ہولز کا خاتمہ کرنے لیے قانون سازی کی جائے۔
اقتدار برقرار رکھنے کا صرف ایک ہی طریقہ تھا، وہ تھا زبردستی کرنا۔
پاناما پیپرز سے لے کر پینڈورا پیپرز تک میں ایک نیا ترانہ سامنے آیا ہے، وہ ترانہ ہے ’’دنیا کے صحافیو، ایک ہوجاؤ‘‘
افراط زر اور کچھ بھی نہیں بالآخر یہ سیاسی بحران کا ملبہ غریبوں پر ہی گرانا ہے۔