صفحۂ اول
تازہ ترین
بجٹ
کھیل
فیفا ورلڈکپ
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
ساجدہ کا تعلق چار سدہ سے ہے۔ شہر کے نزدیک ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ جہاں اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہے۔
علامہ عبدالستار عاصم سے شناسائی ‘ چند سالوں پرمحیط ہے۔ملاقاتیں بھی کافی ہیں۔ کمال انسان ہیں۔
کوئی ایک ایسا دن بتا دیجیے جس میں‘ مملکت خداداد پاکستان کسی نہ کسی گرداب ‘ مصیبت یا آفت کا شکار نہ ہوا ہو۔
گوالیار کا قلعہ‘ مغلوں کے زمانے میں وہ عقوبت گاہ تھی جو باغی شہزادوں اور شاہی خاندان کے نافرمانوں کے لیے مختص تھی
اگر کوئی شخص درد دل اور خلوص سے عام لوگوں کی مشکلات کی بابت کچھ بات کرے تو مرنے کے بعد بھی اسے کوڑے مارنے چاہیے!
2025ء میں برگِ فیض کا قیام کیا گیا۔ اور اس کے زیر اہتمام انھی خواتین نے انکریج فارمز میں سحری کا انتظام کر ڈالا ۔
شہنشاہ جہانگیر دربار میں جلوہ افروز تھا۔ وزراء ‘ امراء اور سپہ سالار ‘ شاہی خلعتوں میں ملبوس موجود تھے۔
مرتضی احمد میکش نے تحقیقی کام‘ 1940میں ہی مکمل کر لیا تھا۔ مگر متعدد وجوہات کی بنا پر یہ شائع تقریباً دس برس کے بعد ہوا۔
فیلڈ مارشل کی قیادت میں‘ پاکستان نے جو کامیاب سفارت کاری کی ہے ۔
نیویارک پوسٹ نے، اٹھارہ مارچ 2026ء، کو ایک حیرت انگیز تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ انٹرنیٹ پر موجود ہے، کوئی بھی اسے پڑھ سکتا ہے۔