صفحۂ اول
تازہ ترین
بجٹ
کھیل
فیفا ورلڈکپ
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
قرۃ العین حیدرکو متعدد ایوارڈ بھی ملے ہیں جن میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ 1967 میں ان کے افسانے ’’پت جھڑکی آواز‘‘ پر دیا گیا۔
قرۃ العین حیدر کا ذہنی کینوس کتنا بڑا تھا، اس کا اندازہ ان کے بعض افسانوں سے لگایا جا سکتا ہے مثلاً ’’ یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے‘‘۔
زیادہ تر حادثے اس شہر میں بائیک سواروں کے ہوتے ہیں، جن میں کسی حد تک قصور خود بائیک سواروں کا بھی ہے
خرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں حالانکہ اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
جب ہم نہ ہوں گے جب ہماری خاک پہ تم رکو گے چلتے چلتے اشکوں سے بھیگی چاندنی میں اک صدا سی سنو گے چلتے چلتے
یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے یوں ہی تھم کے رہ گئی ہے میری رات ڈھلتے ڈھلتے
آئی زنجیر کی جھنکار خدا خیر کرے دل ہوا اس کا طلبگار خدا خیر کرے
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے