جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہےکہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری احتجاج جاری ہے اور اگر مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو ملک گیر مکمل شٹرڈاؤن کے بعد پہیہ جام کی کال بھی دیں گے۔
پیٹرولیم لیوی کے خلاف لاہور کے علاقے مال روڈ پر جاری دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ شہر لاہور کے زندہ دلان، پشاور اور کراچی میں دھرنوں میں ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے، جماعت اسلامی تاریخی جدوجہد کر رہی ہے اور ہمارے دھرنوں سے حکومت میں ہلچل مچ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمران طبقے نے عوام کو پریشانیوں میں مبتلا کر دیا ہے، ہمارے دھرنے کو تین دن ہوئے ہیں، یہ ضرب ہو گا حکمران تقسیم ہوں گے، ہم نے 2 سال پہلے ظلم کی شکل آئی پی پیز کو ملک بھر میں ایکسپوز کیا تھا، جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کی جانب سے قوم کی جیبوں پر ڈاکے کی بات دلیل سے کی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی عمل چلتے رہتے ہیں، مسائل پر بات بھی ہوتی ہے، جب ہم نے اسلام آباد میں دھرنا دینا چاہا تو ہم پر شیلنگ کی گئی اور ہمارے متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمرانوں نے سمجھا یہ آئے ہیں چلے جائیں گے، ان کی غلط فہمی تھی، جماعت اسلامی آئی پی پیز کی کیپسٹی پیمنٹ کے خلاف بات کرتی ہے، ان کے وزرا بین الاقوامی قوتوں کے خوف سے آئی پی پیز سے بات نہیں کرتے تھے، ہم نے کہا اگر تم آئی پی پیز سے بات نہیں کرتے تو ہمارا دھرنا جاری رہے گا، حکومت نے مجبور ہو کر ایک کمیٹی بنائی۔
انہوں نے کہا کہ حکمران لیوی کی مد میں 8 ہزار ارب روپے وصول کر چکے ہیں، اس سال حکومت نے اپنے اہداف سے بھی زیادہ لیوی وصول کی ہے، حکمران لیوی کی مد میں عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈال رہے ہیں، پیٹرولیم لیوی غریب آدمی پر بوجھ ہے اور جن پر ٹیکس واجب ہی نہیں ان پر بھی حکومت نے ٹیکس لگا رکھا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 1961 کے قانون کے تحت انہوں نے عوام پر لیوی لگا رکھی ہے، پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کا مقصد ریفائنریز کو بہتر کرنا تھا، ہم عوام کے حق کے لیے نکلے ہیں، لیوی بھتہ ٹیکس منظور نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کمیٹی بنائی جو بتائے گی ان کی مشکلات کیا ہیں، ہمیں پتا ہے آپ کو پریشانی ہے کیونکہ آپ جانے والے ہیں، کہیں ایسا تو نہیں آپ پیا کے منظور نظر نہیں رہے۔
انہوں نے کہا کہ حکمران بجلی کے بلوں سے ہزار ارب روپے جمع کر رہے ہیں، تنخواہ دار طبقے سے حکمرانوں نے 1200 ارب روپے جمع کیے، آئی پی پیز کو بجلی نہ بنانے کے 1700 ارب روپے دیے گئے، آئی پی پیز اتنے پیسے لینے کے باوجود ٹیکس جمع نہیں کرواتے، یہ مافیا بن چکا ہے، جو عوام کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمت 225 روپے کرو، بجلی سستی کرنی پڑے گی، کسانوں کو گنے کی قیمت نہیں ملتی، یہ چینی امپورٹ کرنے کی بات کرتے ہیں، مخصوص مافیا ہر نظام میں ہوتا ہے، یہ ڈلیور نہیں کر سکتے لہٰذا اب نظام چلانے والے بھی اپنی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شاخوں کو جھاڑنے سے نظام صاف نہیں ہو گا، جڑ سے اکھاڑنا ہو گا، ابھی تک انگریزوں کا بنایا بیوروکریسی نظام چل رہا ہے، بیوروکریٹس خود کو آقا اور عوام کو غلام سمجھتے ہیں، بیوروکریٹس بڑی گاڑی سے اتر کر غریب کا ٹھیلا الٹتے ہیں اور ظلم کی تمام شکلوں کے خلاف ہم جدوجہد جاری رکھیں گے۔
نعیم الرحمان نے کہا کہ ہمارا دھرنا ہمارا ذاتی نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے، اگر حکمرانوں نے پیٹرول میں حالیہ اضافہ ختم نہ کیا تو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کریں گے، کل پشاور میں عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے خطاب کروں گا، مکمل شٹرڈاؤن کے بعد پہیہ جام کی کال بھی دیں گے، پیدل مارچ بھی شروع کریں گے اور اسلام آباد پہنچیں گے، اللہ کی مدد سے اور عوام کی قوت سے آئیں گے، کوئی روک نہیں سکے گا۔