US
صفحۂ اول
تازہ ترین
خاص خبریں
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
کبھی حکومت کی طرف سے صرف ایک ڈش کی پابندی تھی، یہ بھی ہوا کہ صرف پچاس مہمان بلانے کی بھی پابندی تھی، لیکن آہستہ آہستہ ساری پابندیاں ختم ہو گئیں
سن ساٹھ کی دہائی کی لڑکیاں بلا چوں چرا جوائنٹ فیملی سسٹم میں خوشی سے رہتی تھیں
اسلام کے نام پر بنے ہوئے ملک میں ہر طرف ظلم و ستم کا بازار گرم ہے، مہنگائی کا جن کئی برسوں سے بوتل سے باہر ہے۔
قرۃ العین حیدرکو متعدد ایوارڈ بھی ملے ہیں جن میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ 1967 میں ان کے افسانے ’’پت جھڑکی آواز‘‘ پر دیا گیا۔
قرۃ العین حیدر کا ذہنی کینوس کتنا بڑا تھا، اس کا اندازہ ان کے بعض افسانوں سے لگایا جا سکتا ہے مثلاً ’’ یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے‘‘۔
زیادہ تر حادثے اس شہر میں بائیک سواروں کے ہوتے ہیں، جن میں کسی حد تک قصور خود بائیک سواروں کا بھی ہے
خرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں حالانکہ اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
جب ہم نہ ہوں گے جب ہماری خاک پہ تم رکو گے چلتے چلتے اشکوں سے بھیگی چاندنی میں اک صدا سی سنو گے چلتے چلتے