صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
وہ بونوں میں کھڑا خود کو بہت اونچا سمجھتا ہے وگرنہ اس کا جتنا قد ہے ہر بندہ سمجھتا ہے
احمریں عارض و لب، چشم سیہ، بال سیاہ زیب دیتے ہیں یہ دو رنگ تجھے لال، سیاہ
پیرہن جو کم دیا ہے مجھ کو میرے ناپ سے اس پہ کیا میرا گلہ بنتا نہیں کچھ آپ سے
یہ نالہ تب دلِ عشّاق سے نکلتا ہے چراغ بجھ کے دھواں طاق سے نکلتا ہے
چراغ آندھی کے سامنے جو ڈٹا ہوا ہے کہ اس لیے بھی تو کچھ اندھیرا چھٹا ہوا ہے
کچھ یوں گزر ے بارہ مہینے۔۔۔
دعائے مرگ ہے اور خواب زندگی کے ہیں یہ دونوں رنگ فقط ایک بے بسی کے ہیں
فیصلہ جب بھی میرے یار کیا جائے گا ساری بستی کو خبردار کیا جائے گا
میں تازہ خون کی بڑھتی طلب سے واقف ہوں نگارِ شوق ترے چشم و لب سے واقف ہوں
اوڑھے ہوئے ہے آج جو گردو غبار شخص ہوتا تھا اپنی ذات میں باغ و بہار شخص