صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیفا ورلڈکپ
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
بے سبب آوارگی سے دل کو بہلاتا تھا میں شام ہو جاتی تو گھر واپس پلٹ جاتا تھا میں
ہر سماعت نے تبھی تو مری عزت کی ہے میں نے اک عمر اس آواز پہ محنت کی ہے
بریدہ سر تھے مرے خواب جو ٹھکانے لگے ابھی سے لوگ بہت انگلیاں اٹھانے لگے
حروف جتنے ہماری غزل میں آتے ہیں کشید کرتے ہیں خونِ جگر تو لاتے ہیں
دل کہہ رہاہے میرامگرکس طرح کروں اتنا طویل تنہا سفر کس طرح کروں
جی چاہتا ہے تجھ سے ملوں پھر کسی طرح دو سال تیرے ساتھ رہوں پر نئی طرح