عارف عزیز

  • کوچۂ سخن

    وجد میں آیا ہوا مست خلا دیکھتا ہے کون یوں رکھ کے تجھے تیری جگہ دیکھتا ہے

  • کوچۂ سخن

    تجھے میں سوچ کے مصرع تراش لیتا ہوں بڑے بڑوں سے بھی اچھا تراش لیتا ہوں   

  • کوچۂ سخن

    جاتے ہوئے جوازِ بقا لے گیا تو پھر سیلِ بلا، فصیلِ انا لے گیا تو پھر

  • کوچۂ سخن

    کس کس کی سرشتوں میں وفا ساتھ چلے گی سورج کی طلب لے کے گھٹا ساتھ چلے گی

  • کوچۂ سخن

    یہ شہر زاد آ گئے بیکار دشت میں تہذیب ان کی موجبِ آزار دشت میں

  • کوچۂ سخن

    ٹوٹے ہوئے پر اور بہت دور کی خواہش کیا لائقِ تحسین ہے معذور کی خواہش

  • کوچۂ سخن

    وہ آ کے ہاتھ پہ جس وقت دل بناتی ہے مرے بدن میں حرارت سی پھیل جاتی ہے

  • کوچۂ سخن

    بڑھ گئی بات ذرا ردّ و بدل ہوتے ہوئے مسئلہ اور بگڑنے لگا حل ہوتے ہوئے

  • کوچۂ سخن

    اُس خوش قدم نے بڑھ کے سنبھالی زمین تھی  دل اک عذابِ نوح میں ڈالی زمین تھی 

  • کوچۂ سخن

     ہوتا ہوں آپ میں کبھی ہوتا نہیں ہوں میں کیوں کر بنوں کسی کا کہ اپنا نہیں ہوں میں 

پاکستان