صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیفا ورلڈکپ
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
یہ شہر زاد آ گئے بیکار دشت میں تہذیب ان کی موجبِ آزار دشت میں
ٹوٹے ہوئے پر اور بہت دور کی خواہش کیا لائقِ تحسین ہے معذور کی خواہش
وہ آ کے ہاتھ پہ جس وقت دل بناتی ہے مرے بدن میں حرارت سی پھیل جاتی ہے
بڑھ گئی بات ذرا ردّ و بدل ہوتے ہوئے مسئلہ اور بگڑنے لگا حل ہوتے ہوئے
اُس خوش قدم نے بڑھ کے سنبھالی زمین تھی دل اک عذابِ نوح میں ڈالی زمین تھی
ہوتا ہوں آپ میں کبھی ہوتا نہیں ہوں میں کیوں کر بنوں کسی کا کہ اپنا نہیں ہوں میں
حق و باطل کبھی یکجا نہیں رہنے دیتا آئینہ جھوٹ پہ پردہ نہیں رہنے دیتا
کسی حسین کی چاہت نہیں کروں گا میں تمہارے بعد محبت نہیں کروں گا میں
پھر وہی فکرِ جہاں اور ترا غم دونوں رات بھر دست و گریباں ہوئے باہم دونوں
جہاں وہ خوبصورت، رونقِ محفل نہیں ہوتا ہمیں جانا ہی پڑتا ہے اگرچہ دل نہیں ہوتا