US
صفحۂ اول
تازہ ترین
خاص خبریں
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
میں آج بھی سبط حسن کی انجمن ترقی پسند مصنفین کو ادیبوں کا مضبوط پلیٹ فارم سمجھتا ہوں۔
ہفتے بھر کے دوران میرے گیان کی آزادی میں تین بڑے واقعات کا ذکر آج ضروری ہے۔
ہماری منڈلیاں ہماری بیٹھکیں ہمارے چوبارے کیوں دوستوں کے قہقہوں اور آپسی دکھ سمیٹنے سے دور کر دیے گئے ہیں۔
آج اظہار رائے کی دگرگوں صورتحال نے مجھے ایک ایسے استاد کی کتاب کے آگے دو زانوکیے بیٹھے رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔
بسا اوقات غم اوردکھ کی شدت سکتے میں ڈھل کر انسان کو چند ساعتوں تک ایک ایسے کردارکا حصہ بنا دیتی ہے۔
معاشی تنگ دستی سے ستائے عوام کو امید ہو چلی تھی کہ اس کو اب ہوش ربا مہنگائی میں نوالہ چھن جانے سے نجات مل جائے گی۔
وہ مطلق العنان آمر ضیا کے جبر میں بھی’’شاہراہ دستور‘‘ سے واقف تھا
ریاستی جبر نے ہمیشہ عوام کے حقِ اظہارکو دبانے یا کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
آرٹس کونسل کے بلوچ پروگرام روکنے کے رویئے پر مذمت شاید میرے بلوچستان کے دکھوں کا مداوا نہ کر سکے۔
کیفی اعظمی نے اپنی فکر سے جبر کے پنجوں کی گرفت کمزور کر دی ہے۔