US
صفحۂ اول
تازہ ترین
خاص خبریں
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
وہ چاروں بہت دکھی تھے، وہ صحافتی منڈلی کے بکھرنے پر گھنٹوں باتیں کیا کرتے
ضیا الدین صحافتی وقار اور اس کے تحفظ کے لیے کوششوں میں نہ وہ تھکے اور نہ رکے۔
یہ نوے کے عشرے کے اس دور کا ذکر ہے جہاں آمرانہ ضیائی اقتدار کے خاتمے کے بعد کا بے
انصاف بر سماج کی آزادی، پاکستان کھپے کے نعرے سے نہیں بلکہ نظریاتی جدوجہد کے نتیجے میں ملے گی۔
اہلمذہب دنیا میں ذہن کی بیداری کی علامت کے طور پر متعارف کروائے گئے تھے مگر ہمارے ہاںان کا رنگ ہی نرالہ بنا دیا گیاہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ مجھ عامل صحافی سے کسی کو کیا لینا تھا
اس قدر جلدی کس بات کی ہے کہ وہ مسلسل آئین و قانون کی دھجیاں اڑا کر اپنے من پسند آرڈیننسز اور قوانین بنا رہے ہیں۔
اب بھی ہمارے عدالتی نظام میں حق سچ کہنے اور حق کا ساتھ دینے والے ججز اور وکلا نمایندے ہیں۔
نرم لہجے اور مٹھاس بھری گفتگو کے نظریاتی استقامت والے علی جاوید کی ادبی اور ترقی پسند فکر کا سفر آگے کی جانب جاری ہے۔
آمر کے حکم پر نذیر عباسی کو تشدد کا نشانہ بنا کر 9 اگست 83 کو موت کی نیند سلا کر شاید مطمئن ہوجاتا ہے۔