US
صفحۂ اول
تازہ ترین
رمضان
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
’’یہ ایک ایسا مہینہ ہے کہ اس کا پہلا عشرہ اﷲ کی رحمت، درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔
آپؓ نے فرمایا: ’’ملک کفر سے تو چل سکتا ہے لیکن ظلم سے نہیں چل سکتا۔‘‘ ’’میں نے کوئی وافر دولت ایسی نہیں دیکھی جس کے پہلو میں غصب شدہ حق نظر نہ آئے ہوں۔‘‘
آپ کا نام علیؓ ہے اور القاب اسد اﷲ، حیدرِ کرار اور مرتضی تھے۔ ابوالحسن اور ابُوتراب آپؓ کی کنیت تھی۔
مسلم دنیا جو اس وقت مصائب و آلام میں گرفتار ہے، علیؓ کی زندگی اختیار کرکے مصائب و آلام پر قابو پا سکتی ہے اور دنیائے شیطانی کو شکست سے دوچار کر سکتی ہے
’’علیؓ سے محبت، اﷲ اور رسول کریم ﷺ سے محبت رکھنا ہے اور علیؓ سے عداوت اﷲ اور رسول اکرمؐ سے عداوت رکھنا ہے۔‘‘
بچوں نے بھی میدانِ جنگ میں کارنامے انجام دیے
آپ زہد و اتقاء، محبّت و خشیت الٰہی سے معمور تھیں، فقہی امور میںجلیل القدر صحابہ کرامؓؓ آپ سے مشورہ و راہ نمائی حاصل کرتے تھے
ارشادِ باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’یتیم کا مال ناحق کھانا کبیرہ گناہ اور سخت حرام ہے۔‘‘ (الدھر)
فتنہ یہی ہے کہ ہم مال و دولت جمع کریں اور دوسروں کو بھول جائیں اور نجات یہی ہے کہ ہم مفلسین کو دیں اور اﷲ پر بھروسا کریں
خود اپنے لیے تو پکوان سجے ہوئے ہوں اور دوسروں کو صرف شربت یا لسّی کے دو گھونٹ پر افطار کروایا جا رہا ہے تو یہ پسندیدہ عمل نہیں ہے
اسلام نے عورتوں کو استحصال سے نجات دلانے اور ان کی منزلت بتانے کے لیے دختر رسول کریم ؐ خاتون جنت حضرت فاطمہ زھراؓ کا انتخاب کیا
حضور ﷺ نے خود قبر میں اتر کر ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ کی تدفین فرمائی۔ رسول کریم ﷺ ہمیشہ آپؓ کو یاد کر کے آبدیدہ ہوجایا کرتے تھے
ماہ رمضان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے تین عشروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے
ماہ رمضان کے فیضان کے کیا کہنے! اس کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے
چشم ما روشن دل ماشاد: رمضان المبارک ہماری روحانی شخصیت کی خوب صورتی اﷲ کی ذات کے لیے کیے گئے اعمال سے ہے
رمضان المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم نازل فرمایا۔
گزرا وقت واپس نہیں آتا … مگر آنے والا ہر لمحہ اور ہر صبح کو طلوع ہونے والے سورج کی کرنوں سے پھوٹنے والی روشنی امید کا پیغام ضرور دیتی ہے
صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ ہاتھ آنکھ اور اشاروں سے بھی غیبت ممکن ہے اور یہ بھی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے
’’ اﷲ جو چاہے مٹاتا ہے اور ثبت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا، اسی کے پاس ہے۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک! تمہارا رب بڑا حیادار ہے۔ وہ شرم کرتا ہے کہ بندہ اس کی طرف دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور وہ انھیں خالی ہاتھ واپس کردے۔‘‘
اس رات میں گناہوں سے ترک تعلق کرنے کا عہد کرنا ہے، اسے یوم تجدید عہد کہتے ہیں۔ اگر ہم نے اس کے تقاضے پورے کیے تو یہ بخشش اور نجات کی رات ہے
’’اے اﷲ! مجھے ایسا پاکیزہ دل عطا فرما جس میں شرک کا شائبہ بھی نہ ہو اور نہ بدکار ہو اور نہ بدبخت ہو۔‘‘
ساری قوم اجتماعی طور پر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مغفرت طلب کرے اور اس رات کو شبِ توبہ اور شبِ دعا کے طور پر منائے
’’جس دل میں علم حقیقی کا نُور ہو، اس دل میں گم راہی کا اندھیرا جگہ نہیں بنا سکتا۔‘‘
اسلامی ریاست میں تمام شہریوں کو عقیدے، مذہب، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفّظ کی ضمانت حاصل ہے
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو، ایک رات میں مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سفر کرایا
واقعہ معراج انسانیت کے لیے اپنے حبیب ؐ کی شان و مقام اور اپنی قدرت کو عیاں کرنے کا ایک مظہر تھا
رسول کریمؐ نے سود کھانے والے، دینے والے، لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے سب پر لعنت فرمائی
’’تمہارا رب بڑی وسیع رحمت کا مالک ہے۔‘‘ ’’میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے۔‘‘ ’’تمہارا رب بہت بخشنے والا بڑی رحمت والا ہے۔‘‘
اسلامی حکومت کی عمارت اخوّت اور مساوات کی بنیادوں پر اُٹھائی گئی، اس کی قوت کا انحصار دل کی محبت اور روح کی اطاعت پر تھا۔
’’یہ ایک بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو، جس حوالے سے وہ تمہیں سچا سمجھتا ہے، حال آں کہ تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘
شرعی حدود میں کیا گیا ہنسی، مذاق انسیت و مودت کا ذریعہ ہے
دنیا بھر کے مفکرین اور دانش ور اس حیرت میں مبتلا ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مختصر ترین دور میں اتنا بڑا انقلاب کیسے برپا کر دیا
آپ ؓ کو اﷲ تعالیٰ اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں خصوصی اہمیت و فضیلت حاصل تھی
سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ فیصلے کرنے اور فصاحت و بلاغت میں کمال رکھتے تھے
مہاجرین مکہ اور انصار مدینہ کے درمیان مثالی بھائی چارہ چشم فلک نے انقلابات زمانہ تو کئی دیکھے لیکن رسول کریم ﷺ کے انقلاب جیسا انقلاب نہیں دیکھا
’’ اﷲ رب العزت نے اپنے ایمان والے بندوں کو اپنی، اور اپنے رسول (ﷺ) کی اطاعت کا حکم دیا، جو کہ دنیا و آخرت دونوں میں ان کے لیے نیک بختی کا ذریعہ ہے۔‘‘
’’بے شک! اﷲ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل کے سپرد کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرو تو عدل سے کرو۔‘‘
ہم دردانہ گفت گُو، کوئی دعا، ایک محبت بھرا جملہ کسی کے دن کو روشن اور زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے
’’ساری مخلوق اﷲ کا کنبہ ہے، اﷲ کے نزدیک سب سے پسندیدہ بندہ وہ ہے جو اس کے عیال کے لیے سب سے زیادہ نافع ہو۔‘‘
’’اﷲ کے نزدیک تم میں سے زیادہ عزت والا وہ شخص ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے۔‘‘
نماز کا ارادہ کرنا بھی نماز ہی کے حکم میں ہے۔ لہٰذا راستہ میں چلتے ہوئے لہو و لعب، ہنسی مذاق اور ناجائز چیزوں پر نظر سے پرہیز کیا جائے
’’ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے اس کے بعد اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی (وغیرہ) بنا دیتے ہیں۔‘‘ (البخاری)
جو لوگ بھی نیک اوصاف کے ساتھ دنیا میں زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں انھیں سوائے رسول اﷲ ﷺ کے کوئی دوسرا نمونہ اس دنیا میں نظر نہیں آسکتا
ہمیں ا پنی آنے والینسلوں کو اسلامی تعلیمات کا وہ خزینہ دینا ہے جو ان کو زمانے کے فتنوں سے محفوظ رکھے
’’اے میرے پروردگار! تُو میرے والدین پر ایسے ہی رحم فرما، جیسا کہ انھوں نے بچپن میں رحمت و شفقت کے ساتھ میری پرورش کی ہے۔‘‘
آج کے دور میں سوشل میڈیا پر ہزاروں فرینڈز، فالوورز، لائکس، ری ایکشنز اور تبصروں کی بھرمار ہے
’’اور جس شخص نے میری یاد سے منہ موڑا تو بلاشبہ! اس کی زندگی تنگ ہوجاتی ہے اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔‘‘
’’لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیرو۔ اور نہ زمین پر اترا کر چلو۔ کیوں کہ اﷲ تعالیٰ متکبّر اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے۔‘‘