شریف فیملی کیخلاف کیس کھولنے کی درخواست سماعت کیلئے منظور طلبی کی استدعا مسترد

عدالت نے ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے باوجودکیس ری اوپن ہونے یا نہ ہونے کے نکتے پرفریقین کے وکلاکی معاونت طلب کرلی


Numainda Express August 07, 2012
عدالت نے ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے باوجودکیس ری اوپن ہونے یا نہ ہونے کے نکتے پرفریقین کے وکلاکی معاونت طلب کرلی ۔فائل فوٹو

SIALKOT: احتساب عدالت نمبر 4کے جج چوہدری عبدالحق نے سابق وزیراعظم نوازشریف، وزیراعلیٰ شہبازشریف ان کے بھائی عباس شریف بیٹوں حمزہ شہباز،حسین نواز،بیٹی مریم نواز، والدہ شمیم اختر، بھابھی صبیحہ عباس اور دیگرشریک ملزمان کے خلاف کرپشن کے2 ریفرنس اتفاق فاؤنڈری اوررائیونڈ محل ری اوپن کرنے کی چئیرمین نیب کی2درخواستوںکی سماعت15ستمبرتک ملتوی کردی ہے۔ دونوں درخواستیں باقاعدہ سماعت کیلیے منظورکرلی گئی ہیں،

عدالت نے نوازشریف، شہبازشریف اوران کی پوری فیملی کوذاتی طور پر عدالت میں طلب کرنے کی نیب پراسیکیوٹرکی استدعا مستردکردی جبکہ تمام ملزموںکے دستخطوں سے ان کے وکیل چوہدری حسن مان نے وکالت نامے عدالت پیش کردیے جنھیںعدالت نے منظورکرتے ہوئے عدالتی ریکارڈکاحصہ بنالیا اورقراردیاکہ ابھی نیب کے ریفرنس ری اوپن کرنے کا فیصلہ نہیںہوا چونکہ ملزموں کے وکلا پیش ہوگئے ہیں،

اس لیے ملزموںکی ذاتی طورپر عدالت طلبی درست نہیں ہے، فاضل جج نے فریقین کے وکلا کوسختی کے ساتھ ہدایت بھی کی کہ وہ آئندہ تاریخ پر اس قانونی نکتے پر عدالت کی معاونت کریںکہ ''کیا ہائیکورٹ کے حکم امتناع کی روشنی میں ان کیسوںکوری اوپن کیا جاسکتاہے یانہیں''، گزشتہ روز سماعت شروع ہوئی توشریف فیملی کے وکیل نے دونوں ریفرنسوںکے تمام ملزموں کی طرف سے ان کے وکالت نامے پیش کیے اوراستدعاکی کہ سنیئروکیل محمد اکرم شیخ بیرون ملک گئے ہیں،

ان کے آنے تک سماعت ملتوی کی جائے، نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹرچوہدری ریاض اورخرم اعجاز نے موقف اختیارکیا کہ تمام ملزموںکوذاتی حیثیت میں طلب کیاجائے، قانون سب کیلیے برابرہے، عدالت میں حاضری ضروری ہے، وکیل صفائی نے مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ ابھی یہ طے کرنا باقی ہے کہ ریفرنس ری اوپن بھی ہوںگے یانہیں، اگرریفرنس ری اوپن ہوگئے تو تمام ملزم عدالت پیش ہوںگے جبکہ عدالت نے قراردیا کہ ابھی توریفرنس ہی بحال نہیں ہوئے،

ملزموں کوذاتی طور پرکیسے طلب کیاجائے، جب آخری بارکیس غیرمعینہ مدت کیلیے ملتوی کیے گئے تھے توکیا اس وقت ملزم عدالت موجود تھے؟ جس کا پراسیکیوٹر نیب نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہاکہ قبل ازیں چیئرمین نیب نہیںتھے، اب چیئرمین نے ان ریفرنسوں کوری اوپن کرانے کا فیصلہ کیاہے، عدالتی حکم کے مطابق چئیرمین نیب کے دستخط ہی ریفرنسوں کے ری اوپن کیے جانے میں رکاوٹ تھے اب یہ رکاوٹ ختم ہوگئی ہے۔

عدالت نے یہ استدعا مسترد کردی اور فریقین کو حکم دیا کہ وہ آئندہ تاریخ پر مکمل تیاری کے ساتھ آئیں،کوئی غیر ضروری التوأ نہیں دیا جائے گا جبکہ بعد ازاں شریف فیملی کی خاتون لیگل ایڈوائزر رکن قومی اسمبلی انوشہ رحمان اور حسن مان ایڈووکیٹ نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مردہ کیس ہیں، انھیں صرف سیاسی انتقام کیلیے کھولاجارہاہے، ان میں اگر جان ہوتی تو پرویزمشرف طیارہ یائی جیکنگ کیس کے بجائے ان کیسوں کو ٹرائل کراتے مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا،

اس سوال کہ اگرکیسوں میں جان نہیں توشریف فیملی ان کا سامنا کرنے سے کیوں کترا رہی ہے، وکلا نے کہا کہ نیب پہلے یہ کیس بحال توکرائے جبکہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر نیب چوہدری ریاض نے ایکسپریس کو بتایا کہ عدالت اور قانون کے سامنے سب برابر ہیں، نواز شریف، شہباز شریف سمیت تمام ملزموں کی ذاتی طور پر عدالت پیشی ضروری ہے، تینوں ریفرنسوں میں ایک ارب سے زائد کی کرپشن منی لانڈرنگ کی گئی ہے، اسحاق ڈار وعدہ معاف گواہ ہیں۔