ارکان اسمبلی اور اہل خانہ تا حیات سرکاری مراعات حاصل کر سکیں گے سندھ اسمبلی میں متفقہ بل منظور

اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر،ارکان،وزراکی تنخواہوں اورسرکاری مراعات میں اضافہ کردیاگیا


Staff Reporter March 16, 2013
کراچی:سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وزیرقانون ایاز سومرو اراکین اسمبلی اور اہلخانہ کی مراعات کا بل منظوری کے لیے پیش کررہے ہیں ۔ فوٹو : این این آئی

سندھ اسمبلی نے جمعے کواپنے آخری اجلاس میں ایک ساتھ7بلزکی منظوری دیدی، جن کے ذریعے نہ صرف موجودہ وزرا،معاونین خصوصی،ارکان سندھ اسمبلی اوراسپیکروڈپٹی اسپیکرکی تنخواہوں،الائونسزاورمراعات میں اضافہ کیاگیاہے ۔

بلکہ سابق وزرائے اعلیٰ،سابق اسپیکر و ڈپٹی اسپیکراور سابق ارکان سندھ اسمبلی کوبعض مراعات دی گئی ہیں۔سابقہ ارکان اسمبلی کو مراعات دینے کے لیے بل اتفاق رائے سے منظور ہواجبکہ دیگر6 بلز کی اپوزیشن نے مخالفت کی اوریہ کثرت رائے سے منظور ہوئے ۔اتفاق رائے سے منظور ہونے والا بل ''سندھ اسمبلی (ارکان) استحقاقات (ترمیمی) ایکٹ 2013 '' کہلائے گا، جس کے تحت سابقہ ارکان سندھ اسمبلی کو تاحیات بعض مراعات حاصل ہوں گی،کسی رکن کے انتقال کی صورت میں اس کی بیوہ یاشوہر کو بھی یہ مراعات تاحیات حاصل رہیں گی ،اب سابق ارکان سرکاری گیسٹ ہائوسز،ریسٹ ہائوسز،سندھ ہائوس اسلام آباد اورسندھ ہائوس گوادرمیں ان ریٹس پررہائش اختیارکرسکیںگے جن ریٹس پر سرکاری ارکان اور اہلکار اختیارکرتے ہیں،انہیں اسمبلی سکریٹریٹ،اسمبلی لائبریری، اسپیکرز گیلری میں آنے اوراسمبلی اجلاس دیکھنے کے لیے زندگی بھر کیلیے اجازت نامے جاری کیے جائیںگے۔

تمام ایئرپورٹس پروی آئی پی لائونجز استعمال کرسکیںگے۔سابق ارکان اوران کے جیون ساتھی اور18 سال سے کم عمر ان کے بچوں کو سرکاری یا گراٹیسٹ پاسپورٹس،اسلحہ لائسنس کے اجرااورتجدید کے لیے وہی فیس اداکریں گے جو سرکاری ملازمین ادا کرتے ہیں۔سندھ اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے قانون،پارلیمانی اموروانسانی حقوق کی رپورٹ کی بھی منظوری دی گئی اوراس کی روشنی میں وزرا،معاونین خصوصی،ارکان اسمبلی،اسپیکراور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں،الائونسز اورمراعات سے متعلق4 ترمیمی بل کی بھی کثرت رائے سے منظوری دے دی گئی۔ان بلز کے تحت ارکان سندھ اسمبلی تنخواہوں اورالائونسز میں60 فیصد اضافہ کردیاگیاہے جبکہ اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر ، وزرااور معاونین خصوصی کی تنخواہوں اور الائونسزمیں40 فیصد اضافہ کیا گی ہے۔وزراکی تنخواہ بشمول الائونسز78 ہزار روپے کی بجائے اب ایک لاکھ9 ہزار200 روپے ماہانہ ہوگی۔



جبکہ ارکان سندھ اسمبلی کو تنخواہ اور الائونسز کی مدمیں ماہانہ65 ہزارملیںگے ۔پہلے ارکان کی تنخواہ 15 ہزار روپے ماہانہ تھی،جس میں60 فیصداضافہ کرکے اسے24 ہزار روپے تک کردیاگیاہے۔آفس مینٹننس کی مدمیں ارکان کو5 کی بجائے8 ہزار روپے ماہانہ ملیںگے۔پہلی مرتبہ سیل فون کی مدمیں10ہزارروپے ماہانہ بھی ادا کیے جائیں گے،گیس اور بجلی کے چارجزکی مد میں رقم3 ہزار سے بڑھا کر4 ہزار8 سو روپے کردی گئی ہے جبکہ ڈیلی الائونس 550 سے بڑھا کر880 روپے کردیاگیاہے ،65 ہزار ماہانہ کے علاوہ ارکان کو ٹریولنگ وائوچرکی مدمیں 40 ہزار کے بجائے ایک لاکھ 20 ہزار روپے جبکہ ریکریشن الائونس کی مدمیں 30 ہزار روپے کے بجائے ایک لاکھ روپے ملیں گے۔ان کے ٹریولنگ الائونس کوبھی 3کلومیٹر سے بڑھاکر 20 روپے فی کلومیٹر کردیا گیاہے،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخوائوں میں 40 فیصد اضافہ کردیا گیاہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جب بھی حکومت تنخواہوں میں اضافہ کرے گی،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں میں گریڈ 22 کے افسر کے مساوی اضافہ ہوگا۔وزیر اعلیٰ کے معاونین خصوصی کی تنخوائوں میں15 ہزار 4 سو روپے مزید اضافہ کردیا گیاہے۔

سندھ اسمبلی نے پیپلز پارٹی کے ارکان غلام مجدداسران اور ڈاکٹر سکندر میندھرو کے دو پرائیویٹ بلزکی بھی منظوری دیدی،جن کے ذریعے سندھ کے 4 سال تک وزیراعلی، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر رہنے والے اشخاص کو تاحیات متعددمراعات حاصل رہیں گی،انہیں ان کی تنخواہ اورمراعات کا 70 فیصد اعزازیہ ساری زندگی ملتارہے گا،انہیں تاحیات پولیس سیکیورٹی، لینڈ لائن اورموبائل فون کی سہولت مہیا کی جائے گی تاہم ان فونزکابل 10 ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ نہیں ہوگا،انہیں گریڈ 17 کا ایک افسر بطورپرائیویٹ سیکریٹری ،ایک اردلی،ایک ڈرائیور،ایک باورچی،ایک مالی اورایک سینٹری ورکربھی تاحیات حکومت سندھ کی طرف سے مہیاکیاجائے گا۔ایم کیو ایم اورمسلم لیگ(فنکشنل)کے ارکان نے وزرا،اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر ،معاون خصوصی اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پرشدید اعتراضات کیے اور کہا کہ ہمیں یہ زیب نہیں دیتاکہ ہم اپنی تنخواہیں بڑھائیں کیونکہ افراط زرمیں اضافہ ہوگیاہے اورعام لوگوں کی تنخواہیں اس حساب سے کم ہیں ۔