وزارتِ قومی صحت نے پمز سمیت تمام سرکاری اسپتالوں میں جامع فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزارتِ صحت کے زیرِ انتظام تمام اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا جس کے دوران اسپتالوں میں فائر ڈیٹیکشن، الارم سسٹم اور فائر فائٹنگ آلات کی جانچ کی جائے گی۔
اس کے علاوہ ایمرجنسی راستوں اور ایگزٹ روٹس کی دستیابی کو بھی فائر سیفٹی آڈٹ کا حصہ بنایا جائے گا جبکہ بجلی اور دیگر ممکنہ آتشزدگی کے خطرات کا بھی تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارت نے پمز سمیت تمام اسپتالوں کو فوری طور پر فائر سیفٹی آڈٹ شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے انسانی جان یا املاک کو فوری خطرے کا باعث بننے والی خامیوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرنے کی ہدایت کی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام اسپتال آڈٹ شروع ہونے، متعلقہ کمپنی اور تکمیل کی متوقع تاریخ سے وزارتِ صحت کو آگاہ کریں گے، اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو سرکاری و نجی اسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق آئی ایچ آر اے سرکاری و نجی طبی اداروں میں فائر سیفٹی آڈٹ کی تصدیق کرے گا جبکہ آڈٹ کی تعمیل سے متعلق جامع رپورٹ وزارتِ قومی صحت میں جمع کرائی جائے گی۔
وزارتِ قومی صحت نے فائر سیفٹی کے معاملے کو انتہائی اہمیت دیتے ہوئے فوری اقدامات کی ہدایت کی اور کہا کہ پمز سانحے کے بعد تمام متعلقہ سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ ضروری ہوگیا ہے۔
فائر سیفٹی آڈٹ کے احکامات پمز، پولی کلینک، فیڈرل جنرل ہسپتال چک شہزاد اور شیخ زید اسپتال لاہور کیلیے جاری کیے گئے ہیں جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی، ڈی ایچ او اسلام آباد، ڈائیرکٹر این آئی آر ایم اور ڈائریکٹر بی ایچ ایس پی کراچی کو بھی احکامات جاری کیے گئے ہیں۔