قابل اعتراض پروگرام پیمراکے اقدامات غیرتسلی بخش قرار

سپریم کورٹ نے موثراقدامات کرنے کیلیے پیمراسے ایک ہفتے میںرپورٹ طلب کرلی


Numainda Express August 07, 2012
سپریم کورٹ نے موثراقدامات کرنے کیلیے پیمراسے ایک ہفتے میںرپورٹ طلب کرلی. فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے بعض نجی ٹی وی چینلوں پر قابل اعتراض پروگرام بند کرنے کیلیے پیمراکے اقدامات کوغیر تسلی بخش قرار دیا ہے اور اس حوالے سے موثر اقدامات کرنے کے لیے پیمرا سے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بنچ نے پیمرا سے ان پروگرام کی تفصیل بھی طلب کی ہے جن میں عدلیہ کو ہدف بنایا گیا۔

پیر کو عدالت نے بعض نجی ٹی وی چینلوں پرقابل اعتراض پروگرام نشرکرنے کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے دوران پیمرا سے وضاحت طلب کی کہ کیا ان چینلز کو کنٹرول کرنے کیلیے کوئی پالیسی ہے یا نہیں ۔قائم مقام چیئرمین پیمرا عبدالجبار پیش ہوئے اور بتایا کہ اگر ان پروگراموں کی نشاندہی کی جائے توکارروائی کی جاسکتی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا پرائیویٹ چینلز پر بے ہودگی کی انتہا ہوگئی ہے،

ان پرانڈین اشتہارات چلتے ہیں،کھلے عام گالیاں دی جاتی ہیں ،پیمرا اپنی آئینی ذمے داری نبھانے میں نا کام ہوئی ہے،ادارے کے اہلکار صرف تنخواہیں لیتے ہیں۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ ایک الزام یہ بھی ہے کہ یہ سب کچھ پیمرا کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔چیف جسٹس نے قائم مقام چیئر مین سے کہاکہ اگرکوئی دشواری ہے توبتادیا جائے عدالت مدد کرے گی۔عدالت نے عدلیہ کے حوالے سے پروگراموں کا بھی نوٹس لیا اور قائم مقام چیئرمین سے اس حوالے سے تفصیل طلب کی۔عدالت نے گزشتہ ڈیڑھ سال سے چیئرمین پیمرا کے عہدے پر عارضی تقرری کا بھی نوٹس لیا اور آبزرویشن دی کہ کل وقتی اسامیوں پر عارضی تقرری غیر قانونی ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ حکومت نے قائم مقام چیئر مین اس لیے مقررکیا ہے تاکہ بڑے لوگوں کیخلاف کوئی کارروائی نہ ہو۔چیئرمین پیمرا نے بتایا کہ ایک نجی ٹی وی پر جرمانہ عائدکیا گیا ہے کیونکہ اس کے شو میںایک اداکارہ آئی تھی جس کا لباس اور زبان صحیح نہیں تھی۔عدالت نے وضاحت مانگی کہ عدلیہ کیخلاف پروگرام کرنے پر پیمرا نے کیا کارروائی کی ہے۔چیئر مین پیمرا کی درخواست پر سماعت تیرہ اگست تک ملتوی کر دی گئی۔