نگراں سیٹ اپ جلد مکمل ہونا چاہیے

جمہوریت کے نام پر برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے بیورو کریسی کی غیر جانبداری کو متاثر کیا ہے.


Editorial March 17, 2013
ہر سیاسی جماعت چاہتی ہے کہ نگراں سیٹ اپ ایسا ہو جس میں اس کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ فوٹو: فائل

PESHAWAR: جمہوری حکومت نے اپنی 5سال کی آئینی مدت پوری ہونے پر قومی اسمبلی تحلیل کردی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر اور معاونین بھی سبکدوش ہو گئے ہیں۔ جب تک نگراں وزیراعظم کا تعین نہیں ہوتا، راجہ پرویز اشرف وزیراعظم رہیں گے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی روز کرانے پر اتفاق ہوگیا ہے تاہم صوبائی اسمبلیاں ایک دن تحلیل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکا جب کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر بھی ڈیڈلاک کی صورتحال نظر آتی ہے۔

وزارت پارلیمانی امور کی طرف سے نوٹیفکیشن میں آئین کے آرٹیکل52کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی اپنی مدت مکمل ہونے پر ختم ہوگئی ہے۔ نوٹیفکیشن کی نقول ایوان صدر، وزیراعظم سیکریٹریٹ، الیکشن کمیشن اور تمام وزارتوں کو بھجوا دی گئی ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جمہوری دور میں کسی اسمبلی نے اپنی آئینی مدت پوری کی ہے۔ ادھر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی زیرصدارت چاروں وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات ایک ہی دن کرائے جائیں۔

اس اجلاس میں آیندہ عام انتخابات کے حوالے سے تفصیلی مشاورت بھی کی گئی ۔ وزیراعظم نے چاروں صوبائی اسمبلیاں19مارچ کو تحلیل کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔ راجہ پروریزاشرف نے چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ شہبازشریف سے ون آن ون ملاقات کی۔ حکمران پیپلزپارٹی اور اپوزیشن کی مرکزی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کی جانب سے نگراں وزیراعظم کے تجویز کردہ ناموں کو مسترد کردیا ہے اور بظاہر اس معاملے پر 'ڈیڈلاک' پیدا ہوگیا ہے۔ قومی اسمبلی کی مدت مکمل ہونے کے باوجود وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے پاس19مارچ تک متفقہ نگراں وزیراعظم نامزد کرنے کا اختیار ہے۔یوں اس حوالے سے فریقین کے پاس ابھی وقت موجود ہے۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ہفتے کی شب قوم سے الوداعی خطاب بھی کردیا ہے۔ اپنے خطاب میں انھوں اعتراف کیاکہ ان کی حکومت پانچ برسوں کے دوران دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہا سکی لیکن حکومت نے ورثے میں ملے ہوئے مسائل کو کم کیا ہے اور جمہوریت کی بنیادیں اتنی مضبوط کر دی ہیں کہ آیندہ کوئی اس پر شب خون نہیں مارسکے گا۔ قومی اسمبلی نے ملکی تاریخ میں پہلی بار اپنی آئینی مدت مکمل کی جس پر میں آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ پاکستان میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان کشمکش کی ایک لمبی تاریخ ہے لیکن اب جمہوری قوتوں نے بالآخر فتح حاصل کر لی ہے۔ آج ایک منتخب جمہوری حکومت آئینی طریقے سے اقتدار منتقل کرنے کے مراحل طے کر رہی ہے۔ میں سیاسی جماعتوں اور ان تمام اداروں کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔

قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد وفاقی کابینہ بھی ختم ہو گئی ہے' زیادہ بہتر یہ تھا کہ اس وقت تک نگراں وزیراعظم کا فیصلہ ہو چکا ہوتا اور پورے ملک میں صوبائی اسمبلیاں اور حکومتیں بھی تحلیل ہو جاتیں اور یہاں بھی نگراں حکومتیں قائم ہو جاتیں لیکن تاحال ایسا نہیں ہو سکا ہے' حکومت اور اپوزیشن مرکز میں نگراں وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے نہیں کر سکیں۔ یہی حال پنجاب کا ہے' اس صوبے میں بھی نگراں وزیراعلیٰ کا نام فائنل نہیں ہو سکا' سندھ میں بھی نگراں وزیراعلیٰ نامزد نہیں ہوا' بلوچستان میں حکومت میں شامل کچھ ارکان اسمبلی اپوزیشن میں چلے گئے ہیں تاکہ نگراں وزیراعلیٰ کا نام فائنل کرنے کے لیے آئینی و قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

یہ صورت حال ملک کے عوام اور فہمیدہ حلقوں کے لیے خاصی حیرانی کا باعث ہے۔ نگراں وزیراعظم اور نگراں وزرائے اعلیٰ کے تقرر کا آئینی طریقہ کار طے شدہ ہے اور سب کو پتہ ہے' سیاسی فہم و فراست کا تقاضا تو یہ تھا کہ قومی اسمبلی کی تحلیل سے پہلے ہی نگراں وزیراعظم نامزد کردیا جاتا' اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے سیاستدانوں کو داد نہ دینا زیادتی ہو گی کہ انھوں نے تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود سب سے پہلے نگراں وزیراعلیٰ کا نام فائنل کیا اور اس معاملے میں کوئی لمبے چوڑے مذاکرات کا سلسلہ شروع نہیں کیا' یہ حقیقت ہے کہ بالآخر نگراں وزیراعظم' پنجاب' سندھ اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ کا تعین بھی ہو جائے گا لیکن اس دوران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اور دیگر سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں سے یہ تاثر پختہ ہو گیا ہے کہ سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے سامنے اپنے اپنے مفادات ہیں نہ کہ کسی غیر جانبدار شخصیت کا نام۔

ہر سیاسی جماعت چاہتی ہے کہ نگراں سیٹ اپ ایسا ہو جس میں اس کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ یوں صورت حال یقینی طور پر قابل رشک قرار نہیں دی جا سکتی۔ بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے' وہاں نگراں وزیراعظم یا کسی صوبے کے نگراں وزیراعلیٰ کے معاملے پر ایسی سرگرمیاں اور رابطے نہیں ہوتے جیسا کہ پاکستان میں ہو رہا ہے' آئین میں جو طریقہ کار درج ہے' اس کے مطابق باآسانی اور بغیر کسی رکاوٹ کے فیصلہ ہو جاتا ہے جب کہ پاکستان میں ابھی تک لڑائی جاری ہے' حزب اقتدار حزب اختلاف کو اس حوالے سے اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہیے۔ اس طریقے سے ملک کی انتظامی مشینری میں بھی اضطراب پھیلتا ہے' اس وقت صورتحال ہے کہ ایک بڑا افسر کسی سیاسی جماعت کا منظور نظر ہے تو دوسرا کسی اور کا۔

پاکستان کی بیورو کریسی میں سیاست کا درآنا بھی اس کی کارکردگی کے زوال کا باعث بنا ہے' بیورو کریسی کسی پسند و نا پسند کے بغیر آئین و قانون کے مطابق کام کرتی ہے۔ یہی اصل میں حکومت ہوتی ہے لیکن جمہوریت کے نام پر برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے بیورو کریسی کی غیر جانبداری کو بھی متاثر کیا ہے' آج پاکستان میں کرپشن' بدعنوانی اور اقربا پروری کا جو کلچر فروغ پا رہا ہے' اس کی وجہ یہی ہے کہ بیورو کریسی اپنی راہ عمل تبدیل کر کے سیاسی ہو گئی ہے' سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے ضرور غور کرنا چاہیے' جب ملک کا انتظامی ڈھانچہ موجود ہے' الیکشن کمیشن اور آزاد عدالتیں موجود ہیں تو پھر نگرانوں کے تعین میں اتنی فکر مندی کس لیے ہے' اس سے یہی ظاہر ہوتاہے کہ سیاسی جماعتیں نگراں سیٹ اپ کے نام پر ایسا حکومتی ارینجمنٹ چاہتی ہیں جس کے ذریعے وہ اقتدار میں اپنی حیثیت کے مطابق حصہ لے سکیں۔ بہرحال معاملات کچھ بھی ہوں، مرکز اور صوبوں میں جلد از جلد نگراں سیٹ اپ وجود میں آجانا چاہیے،تاکہ ملک میں انتخابی عمل خوش اسلوبی سے شروع ہوسکے۔