جامعہ کراچی اکیڈمک کونسل کی منظوری کے بغیر داخلہ پالیسی میں ترمیم

انٹری ٹیسٹ کے پاسنگ مارکس 40 فیصد کر دیے گئے، داخلہ کمیٹی نے ماسٹرز کیلیے بنائے گئے ٹیسٹ پیپر کا معیار چیک نہیں کیا۔


Staff Reporter December 29, 2017
آئی آر اور اکنامکس میں داخلوں کیلیے بڑی تعداد میں طلبا ٹیسٹ میں فیل تھے، پبلک پالیسی میں ایک طالبعلم ٹیسٹ پاس کر سکا۔ فوٹو؛ فائل

جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے اکیڈمک کونسل کی منظوری کے بغیر اچانک داخلہ پالیسی میں ترمیم کر دی ہے اور داخلے کا میرٹ کم کرتے ہوئے انٹری ٹیسٹ کے پاسنگ مارکس 50 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد کر دیے۔

جامعہ کراچی کے مصدقہ ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی کی داخلہ کمیٹی ماسٹرزپروگرام میں ٹیسٹ کے لیے این ٹی ایس کی جانب سے تیارکیے گئے ٹیسٹ پیپرکامعیاردیکھ نہیں سکی اور بڑی تعدادمیں امیدوارماسٹرزپروگرام کے داخلہ ٹیسٹ میں فیل ہو گئے۔

داخلہ ٹیسٹ میں بڑی تعدادمیں طلبہ کے فیل ہوجانے کے سبب شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ اورشعبہ معاشیات کی ماسٹرزکی نشستیں بڑی تعدادمیں خالی رہ گئی جب کہ شعبہ سیاسیات کے تحت شروع کیے گئے پبلک پالیسی کے پروگرام میں محض ایک طالب علم ہی داخلہ ٹیسٹ پاس کرسکاباقی تمام امیدوارپروگرام میں رسائی حاصل نہیں کرسکے جس کے سبب ابتدا میں تجویز سامنے آئی کہ محض ان شعبہ جات میں داخلہ ٹیسٹ کے پاسنگ مارکس کم کردیے جائیں تاہم پھرفیصلہ کیاگیاکہ تمام کلیات میں ہی اس فیصلہ کااطلاق ہوناچاہیے اورکلیہ تعلیم کی طرزپر دیگرتمام کلیات میں بھی پاسنگ مارکس 40فیصد کر دیے گئے۔

بات صرف یہی نہیں رکی بلکہ ماسٹرزپروگرام کے ساتھ ساتھ بی ایس پروگرام کے داخلہ ٹیسٹ کامیرٹ بھی اکیڈمک کونسل کی منظوری کے بغیرتبدیل کیاگیااوربی ایس پروگرام میں داخلوں کے لیے ٹیسٹ کے پاسنگ مارکس بھی 40 فیصد کردیے گئے۔ انٹرپاس کرنے این ٹی ایس کا ٹیسٹ دینے والے طلبا کی ایک بڑی تعداداس ٹیسٹ میں پاس تھی۔

قابل ذکر امر یہ ہے کہ بی ایس میں داخلوں کے لیے ٹیسٹ کا میرٹ تو تبدیل کیا گیا ہے تاہم نشستوں میں اضافہ نہیں کیا گیا جس سے ٹیسٹ پاس کرکے داخلہ کے لیے اہل امیدواروں کی تعدادتوبڑھ گئی ہے تاہم ٹیسٹ پاس کرنے کے باوجود ان کی داخلہ حاصل کرنے میں کامیابی ممکن نظرنہیں آرہی۔

واضح رہے کہ جامعہ کراچی کی داخلہ کمیٹی کے سربراہ پروفیسرڈاکٹراحمد قادری اس وقت چین کے تعلیمی دورے پر ہیں اور مذکورہ فیصلہ قائم مقام ڈائریکٹر پروفیسر منصور کی موجودگی میں کیاگیاہے۔