حکومت ڈاکٹر عافیہ کیلئے ایک خط بھی نہ لکھ سکی

رضوانہ قائد  پير 1 جنوری 2018
ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی جیل میں قید ہیں جہاں ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ (تصویر: انٹرنیٹ)

ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی جیل میں قید ہیں جہاں ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ (تصویر: انٹرنیٹ)

وقت کے پہیے نے اپنا مزید ایک چکر پورا کیا۔ سال 2017 کا اختتام ہوا اور 2018 کا آغاز ہوگیا۔ نئے سال کا استقبال دنیا بھر میں نہایت ہی مسرور انداز میں کیا جاتا ہے۔ عشرے کی الٹی گنتی (دس 10 سے ایک 1) کے اختتام پر نئے سال کا پیغام گویا خوشیوں کا سیلاب لے آتا ہے۔ ایک گنتی ڈاکٹر عافیہ بھی گِن رہی ہے کہ ایک ایک کر کے اس کے جرمِ بے گناہی کی سزا کا آخری دن آئے۔ اس کی زندگی میں بھی آزادی اور خوشی کے نئے دور کا آغاز ہو۔

سال 2017 ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی مسلسل کوششوں کا گواہ ہے۔ بلکہ یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ ان کوششوں کا نقطۂ عروج اس سال کا غمناک پہلو بن گیا۔ عافیہ کی رہائی کےلیے حکمرانوں کا خط، جو تمام تر عوامی دباؤ کے باوجود نہ لکھا جا سکا۔

اس سال کے آغاز میں 20 جنوری کو سابق امریکی صدر براک اوباما اپنی آئینی مدتِ صدارت کے اختتام پر چند دیگر قیدیوں کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ کو بھی رہا کرنا چاہتے تھے۔ یہ رہائی پاکستانی حکمرانوں کی جانب سے ایک خط سے مشروط تھی۔ مگر سنگ دل پاکستانی حکمران اس کےلیے تیار ہی نہ ہوئے۔

خط کی اہمیت کے پیشِ نظر ڈاکٹر عافیہ کے اہلِ خانہ نے اس کے حصول کےلیے عوامی حمایت کے ساتھ منظم کوششیں شروع کیں۔ عافیہ کے امریکی وکلاء، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور سیاسی و سماجی نمائندے صدر ممنون حسین، سابق وزیرِاعظم نواز شریف، مشیرِخارجہ سرتاج عزیز اور سابق وزیرِداخلہ چوہدری نثار سے باربار رابطے کرکے اس ایک خط کےلیے التجائیں کرتے رہے، مگر حکمرانوں کے دل پتھر ہی بنے رہے؛ جب کہ عوام نے حمایت کا کوئی میدان نہ چھوڑا۔

نرم دل کالم نگاروں اور صحافی برادری نے دردمندی کے ساتھ دینی و قومی فریضے کی ادائیگی کےلیے عوام کو حقیقتِ حال سے آگاہ کیا۔ اس عرصے میں ملک بھر میں عوام، عافیہ موومنٹ کے رضاکاروں اور سیاسی و دینی جماعتوں نے ڈاکٹر عافیہ کی حمایت میں جدوجہد تیز کی۔ گاڑیوں اور پیدل مارچ کے ذریعے اس خط کے مطالبے کو ملک گیر تقویت دی گئی۔ اسی کے ساتھ کراچی، حیدرآباد، پشاور، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور کئی دیگر شہروں میں مختلف سیاسی و دینی اور سماجی تنظیموں نے ڈاکٹر عافیہ کے حق میں جلسے جلوس ریلیوں اور پریس کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔

یہ بلاگ بھی پڑھیے: جرمِ بے گناہی کے سات سال

اس ملک گیر عوامی جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ سابق امریکی صدر کی سبکدوشی کی تاریخ 20 جنوری کے قریب آتے آتے، عافیہ کی رہائی کےلیے خط کا عوامی مطالبہ بھی تیزتر ہوتا گیا۔ مگر حکومت کی نام نہاد مصلحت کوشی ایک بار پھر آڑے آئی۔ حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بالواسطہ اور بلاواسطہ پیغامات کا سلسلہ شروع ہوا کہ عافیہ کو جلد بارٹرسسٹم کے تحت (شکیل آفریدی کے تبادلے میں) واپس لانے کی خوشخبری دی جائے گی۔ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے اس جھوٹ کو استحکام بخشا گیا۔

ڈاکٹر عافیہ کے اہلِ خانہ نے حکمرانوں کو ان کے وعدے اور آئینی فریضہ کی ادائیگی کےلیے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا۔ اس سلسلے میں اسلام آباد، لاہور اور سندھ ہائی کورٹس میں پیٹیشنز دائر کی گئیں۔ سال 2017 میں تقریباََ پورے ہی سال ملکی و میڈیائی اُفق پر عدالتوں میں زیرِسماعت مقدمات اور فیصلے چھائے رہے۔ مگر کیا عافیہ کیس کے معاملے میں بھی حکمرانوں اور ریاستی حکام کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد یاد آیا؟

یہاں تک کہ 20 جنوری کے دن کے بعد 2017 کا پورا سال ہی گزر گیا۔ فقط ایک خط کے ذریعے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا انمول موقع حکمرانوں کی بےحسی کے باعث المیہ بن گیا۔

رنج و الم کی تصویر مظلوم عافیہ امریکی جیل میں اپنے حکمرانوں کی نظرِکرم کی منتظر ہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ میں پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی عافیہ سے ملاقات کرنے جیل گئیں۔ ان کے مطابق جنیوا کنونشن کی شق 2047 کا حوالہ دینے پر انہیں ملاقات کےلیے اس بیرک تک لے جایا گیا جہاں عافیہ قید ہے۔ عائشہ فاروقی کے جو الفاظ ہیں، کیا حکمران وہ الفاظ اپنے جگر گوشوں کےلیے پسند کریں گے؟

’’سلاخوں کے پیچھے بستر پر ایک خاتون منہ پر چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہڈیوں اور گوشت کا ڈھیر بستر پر دھرا ہو۔ بےحس و حرکت۔ جیل کے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ یہی عافیہ ہے۔‘‘

اس طرح عافیہ کے زندہ ہونے کی تصدیق ہو گئی ورنہ ماضی میں تقریباََ گیارہ برس قبل صرف ایک مرتبہ پاکستانی سینیٹرز کے ایک وفد کو ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کی اجازت ملی تھی جب کہ گزشتہ ڈھائی سال سے ٹیلی فون پر ہونے والی اہلِ خانہ سے چند منٹ کی گفتگو کا سلسلہ بھی منقطع ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کی صحت سے متعلق تشویش ناک اطلاعات کے بعد حکومت سے کئی بار نجی خرچ پر عافیہ سے ملاقات کروانے کی درخواست کی جاچکی ہے۔ ضعیف والدہ اپنی بیٹی اور اور بچے اپنی ماں سے ملاقات کےلیے ساڑھے چودہ سال سے تڑپ رہے ہیں۔ حکمرانوں کے پاس کوئی حِس موجود ہے اس تڑپ کو محسوس کرنے کےلیے؟

ایک طرف انسانیت کو شرماتی یہ کرب ناک صورتِ حال ہے تو دوسری جانب، پہلے ماضی میں امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ جب پانچ پاکستانیوں کے قاتل اس امریکی جاسوس کے ذریعے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی ڈیل کی کوشش ہوسکتی تھی۔ لیکن ہمارے حکمرانوں نے انتہائی عجلت میں، ملکی قوانین کے برخلاف اس جاسوس اور قاتل کو باعزت طریقے سے اس کے ملک رخصت کیا۔ پاکستانی مقتدر اداروں، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کےلیے یہ نہایت شرمناک واقعہ ہے۔

اب ایک اور سلگتا معاملہ، سزائے موت کے قیدی، ملک دشمن بھارتی جاسوس اور پاکستان میں دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ کلبھوشن یادیو کی صورت میں سامنے ہے۔ حکومت ماضی کی طرح ایک بار پھر کمزوری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ایک ایسا دہشت گرد جاسوس اور قاتل جس نے بلوچستان میں ہزاروں لوگوں کے قتل کا اعتراف کیا، دھماکوں کے ذریعے ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع اور معذوری کا سبب بنا۔ جس نے پاک وطن کی سالمیت کو آگ لگانے کی حد تک نقصان پہنچایا۔ ایسے خطرناک دہشت گرد کو ہمارے حکمرانوں کے مطابق انسانی ہمدردی کےناطے اس کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی سہولت فراہم کی گئی۔ سہولت بھی ایسی کہ مکمل ترین سکیورٹی، سرکاری پروٹوکول اور ان کی ایک ایک ادا کی بھرپور میڈیائی کوریج!

کیا ان دونوں دہشت گردوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کا موازنہ ڈاکٹرعافیہ جیسی مظلوم قیدی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے؟ ایسی بےگناہ قیدی کہ جس کا جرم تک ثابت نہ ہوسکا۔ کیا یہ منافقانہ رویّے عوام اور حکومت کےلیے قابلِ فہم ہیں؟ کیا حکمرانوں کے نزدیک ڈاکٹر عافیہ، اس کی ناتواں ماں اور معصوم بچے انسانیت کے دائرے سے باہر ہیں؟ کیا ہمدری ان مظلوم انسانوں کا حق نہیں؟ کیا انصاف کا یہ انداز ہمارے مسلمان حکمرانوں کو زیبا ہے؟

مسلمان حکمرانوں کی تاریخ میں عظیم جرنیل محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، عباسی حکمران معتصم باللہ اور سلطنتِ عثمانیہ کے حاکم سلطان محمد فاتح نے بیٹیوں کی حفاظت کےلیے تاریخ کے ساتھ جغرافیہ تک بدل ڈالے۔ ہمارے ماضی کی ان تابناک روایات کی روشنی حال اور مستقبل کی تاریکیوں کو یقیناََ دور کر سکتی ہے؛ اگر آپ، ہم اور سب چاہیں تو!

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ[email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔