این ای ڈی یونیورسٹی کے طلبہ ریسرچ پروجیکٹ کیلیے بنائی گئی ریسنگ کاربرطانیہ چھوڑ آئے

اگر 16جنوری تک گاڑی واپس نہ آئی تو ٹیکس لگ جائے گا، این ای ڈی یونیورسٹی نے طلبہ کی اسناد بھی روک دیں


Safdar Rizvi January 04, 2018
جس ویئر ہاؤس نے گاڑی رکھی اس نے 9 لاکھ روپے مانگ لیے، فوٹو: فائل

این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے طلبہ اپنے ہی ہاتھوں سے تیار کی گئی ''سنگل سیٹ ریسنگ کار'' برطانیہ میں چھوڑ آئے۔

تفصیلات کے مطابق ریسنگ کاربرطانیہ کے ایک سے دوسرے شہر جا پہنچی ہے یہ گاڑی ''فارمولا کار'' پروجیکٹ کے طور پر یونیورسٹی کے شعبہ مکینیکل انجینئرنگ کے طلبہ کی ''فارمولا فیوژن ٹیم'' نے شعبہ کے استاد ڈاکٹرمعاذاخترکی زیرنگرانی تیار کی تھی۔ اس کی تیاری میں تقریباً3.5ملین روپے کے اخراجات آئے تھے اوراسے مختلف اداروں کی جانب سے موصولہ فنڈزسے تیارکرکے برطانیہ میں منعقدہ بین الاقوامی ''فارمولا اسٹوڈینٹس یو کے'' مقابلے میں بھجوائی گئی تھی، ریسنگ کاراین ای ڈی یونیورسٹی کی ملکیت ہے اور جسے مختلف سرکاری اداروں کے تعاون سے بغیرٹیکس کے مقابلے میں شرکت کے لیے برطانیہ بھجوایاگیاتھاتاہم اب ریسنگ کار واپس نہ لانے اورطلبہ کی جانب سے لاپروائی برتننے کے سبب پیداہونے والے تنازع کے بعداین ای ڈی یونیورسٹی نے ان طلبہ کی ڈگری روک دی ہے اورانجینئرنگ ڈگری کے اجرا کو کار کی واپسی سے مشروط کردیاگیاہے تاہم والدین کے انتہائی اصرار اور یقین دہانی کے بعد بدھ کویونیورسٹی نے طلبہ کودوروزبعد منعقدہونے والے جلسہ تقسیم اسناد میں شرکت کی اجازت دیدی۔

''ایکسپریس''کومعلوم ہواہے کہ تقریباً 35لاکھ روپے کی رقم سے تیارکی گئی سنگل سیٹ ریسنگ کارکوجولائی 2017میں لندن میں ہونے والے ''فارمولااسٹوڈینٹس یوکے ''مقابلے میں پیش کیاگیاتھااس مقابلے میں دنیا کے 68ممالک کے میکینکل انجینئرنگ کے طلبہ اپنے پروجیکٹس کے ساتھ شریک ہوئے تھے اور پاکستان کی نمائندگی این ای ڈی یونیورسٹی شعبہ میکینکل انجینئرنگ کے طلبہ نے کی تھی اورمنعقدہ مقابلے میں نہ صرف ''بریک تھرو'' ایوارڈلینے میں کامیاب ہوگئے تھے، جیوری میں شامل ایک جج کی جانب سے اس پروجیکٹ کی تیار پر این ای ڈی یونیورسٹی اوراس کی متعلقہ ٹیم کو''بی ایم ڈبلیو'' کار کا ایک پارٹبطورانعام دیاگیاتھا،یادرہے کہ این ای ڈی یونیورسٹی کی کوششوں سے پی آئی اے کی اس وقت کی انتظامیہ نے ریسنگ کارکولندن پہنچانے کے لیے مفت خدمات فراہم کی تھیں جبکہ لندن میں موجودپاکستانی سفارت خانے کویقین دہانی کے بعد اس پر''امپورٹ ڈیوٹی''عائد نہیں کی گئی تھی تاہم گاڑی کو16جنوری 2018تک واپس پاکستان پہنچاناہے۔

تاہم یونیورسٹی کے طلبہ اس مقابلے میں شرکت کے بعدعجلت میں خودتوواپس آگئے تاہم 16طلبہ کے اس گروپ میں شامل حمزہ نامی طالب علم گاڑی کولندن میں مقیم اپنے ماموں کے ''گیراج''میں چھوڑآئے اورپاکستان پہنچنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کواس کی اطلاع بھی نہیں دی تاہم لندن میں موجودہ پاکستانی سفارت خانے اوردیگرآفیشل اداروں سے جب یونیورسٹی کواطلاع دی گئی کہ ان کی ریسنگ کارتاحال لندن میں موجودہے اسے بغیرڈیوٹی کے بھجوایاگیاہے اورکارکی واپسی لازمی ہے جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ سے معاملے کی چھان بین کی تومعلوم ہواکہ گاڑی اب متعلقہ طالب علم کے ماموں کے گیراج سے ایک دوسرے شہر Bradford کے کسی ویئر ہاؤس میں موجودہے اور ویئر ہاؤس کے متعلقہ افرادگاڑی کو رکھنے کی مد میں اپنے چارجز مانگ رہے ہیں، یہ رقم پاکستانی کرنسی میں 9لاکھ روپے ہے، قابل ذکرامریہ ہے کہ گاڑی کی واپسی کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے جب پی آئی اے سے رابطہ کیاتواب موجودہ انتظامیہ معاہدے کے باوجودگاڑی کی واپسی کے اخراجات برداشت کرنے کیلیے تیار نہیں، اس سلسلے میں بدھ کو والدین کے ایک گروپ نے این ای ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرسروش لودھی سے ملاقات کی جس میں انھیں بتایاگیاکہ طلبہ نے 9لاکھ روپے کاانتظام کرلیاہے۔

دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے بتایاکہ Bradford سے ہیتھرو ایئر پورٹ تک ریسنگ کارکی ٹرانسپوٹیشن اوراس کی سفری ''پیکنگ'' کے اخراجات یونیورسٹی برداشت کرے گی تاہم طلبہ کی عجلت اورلاپرواہی کے سبب اضافی اخراجات یونیورسٹی برداشت کرنے کوتیارنہیں تاہم والدین کی یقین دہانی پر متعلقہ طلبہ کوہفتہ کویونیورسٹی میں ہونے والے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد میں شرکت کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے تاہم ان کی اسناد کااجراگاڑی کی واپسی سے مشروط کر دیا گیا ہے ادھریونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرسروش لودھی نے ''ایکسپریس''کوبتایاکہ طلبہ کے ایوارڈ جیتنے پر ہم نے انھیں گاڑی کے ساتھ یونیورسٹی میں استقبالیہ دینے کا پروگرام بنایاتھاجبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اس تقریب میں شرکت کی بات بھی کرلی گئی تھی اوروزیراعلیٰ سندھ نے خواہش ظاہرکی تھی کہ وہ تقریب میں یہ ریسنگ کار خود چلائیں گے تاہم طلبہ کی غفلت کے سبب ایساکچھ نہیں ہو سکاتاہم ہم نے والدین کی خواہش اوریقین دہانی کے بعد ان طلبہ کوجلسہ تقسیم اسناد میں شرکت کی اجازت دیدی ہے۔

مقبول خبریں