وزرا کی عوام سے دوری
ارکان اسمبلی مختلف محکموں اور وزیروں سے ملنے ملانےمیں ہی اتنےمصروف ہوتے ہیں کہ انھیں اپنےایوان میں جانا یاد نہیں رہتا۔
ایک اخباری اطلاع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے حال ہی میں سندھ کے لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو کی سخت سرزنش کی اور انھیں ہدایت کی کہ وہ تین روز اپنے حلقۂ انتخاب میں رہیں اور عوام کے مسائل حل کرائیں۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی اسپیکر اور چیئرمین بھی دونوں ایوانوں سے وزراء کی غیر حاضریوں پر برہمی کا اظہار کرتے رہتے ہیں جب کہ سینیٹ سے وزراء کی غیر حاضری پر اے این پی اجلاسوں کا بائیکاٹ اور احتجاج کرچکی ہے اور سینیٹ میں قائدِ ایوان جہانگیر بدر نے وزراء کی غیر ذمے داریوں کی مسلسل ملنے والی شکایات پر وزیراعظم سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ شکایات عام لوگوں کو تو ہیں ہی مگر پارلیمنٹ کے ارکان بھی اب اس بھاری بھر کم اور ملک کی سب سے بڑی کابینہ کے غیرذمے دار وفاقی ارکان شکایات کا جواب دینے پر مامور وزراء کی کررہے ہیں جن میں شامل ایک وزیر پر قومی خزانے سے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور ماہانہ کروڑوں روپے وفاقی کابینہ کے تھوک کے حساب سے موجود ان وزراء پر خرچ ہورہے ہیں،
جن کے محکمے توڑ توڑ کر چھوٹے کردیے گئے ہیں اور ڈویژنوں پر بھی اب وزیر مقرر ہیں اور بعض وزراء تو اپنے نئے بنائے ہوئے محکموں کے افسران سے بھی ناواقف ہیں۔
ارکانِ اسمبلی کے متعلق تو یہ شکایات ہمیشہ رہی ہیں کہ وہ منتخب ہوجانے کے بعد اپنے حلقۂ انتخاب کو بھول جاتے ہیں اور وہ بڑے شہروں اور دارالحکومتوں میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ارکان اسمبلی کا منتخب ہوجانے کے بعد اپنے حلقے میں کام ختم ہوجاتا ہے کیونکہ انھیں بعد میں کسی نہ کسی طرح وزارت حاصل کرنے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے۔
وزارت ملنے کے بعد انھیں جو محکمہ ملتا ہے وہ ان کے الیکشن میں کیے جانے والے انتخابی اخراجات کی وصولی میں معاون ثابت ہوتا ہے جب کہ ارکان اسمبلی کو سرکاری کوٹے حاصل کرنے سمیت وزیروں سے فائدے حاصل کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے اور وہ اتنے مصروف رہتے ہیں کہ انھیں اپنے ان ایوانوں میں بھی جانے کا وقت نہیں ملتا جہاں کے عوام انھیں منتخب کرتے ہیں۔ صوبائی ایوانوں میں وزیروں کی غیر حاضریوں کی اتنی شکایات نہیں ہوتیں جتنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ایوانوں میں اکثر پیدا ہوتی رہتی ہیں۔
وفاقی وزراء ہی نہیں بلکہ صوبائی وزراء بھی مہینوں اپنے حلقۂ انتخاب میں نہیں جاتے۔ وفاقی وزیر کبھی کبھی صوبائی دارالحکومتوں اور بڑے شہروں کے دورے سرکاری کاموں کے لیے کم اور ذاتی مفاد کے حصول کے لیے زیادہ کرتے ہیں جب کہ چھوٹے اضلاع میں وہ صرف اس صورت میں جاتے ہیں، جب وہاں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور خصوصاً وزیر انھیں اپنے حلقۂ انتخاب میں کسی کام کی وجہ سے مدعو کرتے ہیں۔
ملک کے درجنوں ایسے اضلاع ہیں جہاں کا سوا چار سال میں کسی وفاقی وزیر نے کبھی دورہ نہیں کیا۔ وزراء کے پاس اپنے حلقۂ انتخاب میں جانے کا وقت نہیں ہوتا، البتہ ہر وزیر وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے حلقۂ انتخاب کا دورہ ضرور کرتا ہے تاکہ وہاں اس کا زبردست استقبال ہو۔
اس کے استقبال کے لیے لوگ لائن میں ہار لیے کھڑے ہوں۔ وہاں وزیر موصوف کا زبردست فائرنگ سے استقبال ہوتا ہے اور علاقہ افسران اپنے نمبر بڑھانے کے لیے وزیر کے استقبال کو موجود ہوں اور اپنے کاموں کے لیے آنے والے لوگ درخواستیں دینے سے قبل انھیں مبارک باد دیتے ہیں اور وزیر سے دلاسے وصول کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ وزیر موصوف اپنے حلقہ میں دوبارہ آئیں گے تو وہ ان سے اپنے کام کا پوچھیں گے، مگر بعد میں مہینوں تک وزیر منہ نہیں دِکھاتا اور آجائے تو سرکاری افسروں کے ساتھ اجلاس میں مصروف رہتا ہے اور اس کے جانے کا بھی پتا نہیں چلتا۔
عید بقر عید پر بعض وزیر شکل دِکھانے ضرور آجاتے ہیں مگر ان کی آمد سے نوجوانوں کو ملازمتیں ملتی ہیں نہ لوگوں کے مسائل حل ہوتے ہیں کیونکہ وزیر نے عام لوگوں سے زیادہ اپنے عزیزوں اور قریبی دوستوں کو نوازنا ہوتا ہے یا دعوتوں میں شرکت کرنی ہوتی ہے۔
راقم کو اپنے ضلع شکارپور میں متعدد وزیروں کے ہمراہ ان کے دیہی علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے، وہاں وزیر موصوف کو میزبان اور خوشامدی ہی گھیرے رہتے ہیں اور عام لوگوں کا کام صرف وزیر کی تقریر پر نعرے لگانا اور تالیاں بجانا ہی نظر آتا ہے اور وزیر تک ان کی رسائی نہیں ہوتی۔ وزراء اپنے دفتروں میں بیٹھنے کے ضرور شوقین ہوتے ہیں۔
جہاں ان کا رعب داب دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ وزیر کے حلقہ کے لوگ اگر اس کے دفتر پہنچ جائیں تو انھیں گھنٹوں وزیر سے ملنا نصیب نہیں ہوتا کیونکہ وزیر موصوف سے ملنا صرف ارکان اسمبلی اور افسروں کے لیے آسان ہوتا ہے اور وزیر موصوف کی ترجیح بھی صرف ارکان اسمبلی، افسران اور خاص دوستوں اور اپنے علاقے کے بااثر افراد یا مخصوص میڈیا والوں تک محدود ہوتی ہے۔ دارالحکومتوں میں ہونے کے باوجود ارکان اسمبلی مختلف محکموں اور وزیروں سے ملنے ملانے میں ہی اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ انھیں اپنے ایوان میں جانا یاد نہیں رہتا اور ایوان میں ان کے انتظار اور کورم کے لیے گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں۔
جب وزیر ایوانوں کے اجلاس کے اوقات کے دوران اپنے دفتر میں ارکان اسمبلی اور اہم لوگوں میں گِھرا رہے گا اور ارکان اسمبلی، افسران اور بااثر لوگ وہاں سے اٹھنے کا نام نہیں لیں گے اور وزیر اخلاقاً یا مجبوری میں انھیں جانے کو نہیں کہہ سکے گا تو ایوانوں میں ان کا انتظار کیوں نہیں ہوگا؟
اسمبلیوں اور سینیٹ کے اجلاسوں کے اوقات میں اگر وزیروں پر اپنے دفتروں میں بیٹھنے پر پابندی لگادی جائے تو وہاں ارکان اسمبلی نہیں جاسکیں گے اور وزیر سمیت ارکان اسمبلی اپنے اپنے ایوان میں حاضری پر مجبور ہوجائیں گے، جہاں وزیر وقفہ سوالات اور اپنے محکمے کی کارکردگی بتانے کے لیے ایوان میں موجود ہوں گے تو یہ شکایات ختم ہوسکتی ہیں۔
وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ اپنے وزیروں سے ماہانہ رپورٹیں لیں کہ انھوں نے اپنے دفتر میں موجود رہنے کے لیے کیا شیڈول رکھا ہے، کیونکہ بہت سے بااثر وزیر تو مہینوں اپنے دفتر بھی نہیں آتے تاکہ وہاں انھیں لوگوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیروں سے پوچھا جائے کہ وہ اپنے حلقہ میں کتنا وقت گزارتے ہیں اور کتنے اضلاع کا دورہ کرتے ہیں اور نہیں تو کیوں نہیں۔الیکشن سر پر ہیں اس مدت میں تو انھیں عوام کے قریب آجانا چاہیے،اور جس قدر ہوسکے ان کے مسائل حل کریں۔