غیر ملکی ڈیولپرز پرریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کیلیے پابندیاں ختم

سرمایہ کاروں کو فارمنگ میں100فیصد ایکویٹی اورزرعی منصوبوں میں60 فیصدحصص کےساتھ انتظامی کنٹرول کی اجازت کااصولی فیصلہ.


Irshad Ansari March 23, 2013
پاکستانی سفارتخانوں کو69ممالک کے انویسٹرز کیلیے 24 گھنٹے میں5سالہ ملٹی پل اورماہرین کو12ماہ کاورک ویزا جاری کرنے کے اختیارات بھی دیے جائیںگے،دستاویز. فوٹو: فائل

پاکستان نے غیرملکی ریئل اسٹیٹ ڈیولپرز کے لیے پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری پر عائد پابندی مکمل طور پر ختم کردی۔

جبکہ پاکستانی سفارتخانوں کو 69 ممالک کے صنعت کاروں وسرمایہ کاروں کو24گھنٹے کے اندر 5 سال کیلیے ملٹی پل ویزے جاری کرنے کے اختیارات اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کارپوریٹ زرعی فارمنگ میں 100 فیصد ایکویٹی جبکہ زرعی منصوبوں میں 60 فیصد تک حصص رکھنے اور انتظامی کنٹرول کی اجازت دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق وفاقی حکومت نے نئی سرمایہ کاری پالیسی 2013 کے تحت غیر ملکی ریئل اسٹیٹ ڈیولپرز کے لیے پاکستان میں زمین حاصل کرنے اور اس کی پلاٹنگ کرکے مارکیٹنگ کرنے پر عائد پابندی مکمل طور پر ختم کردی ہے، نئی پالیسی کے تحت غیر ملکی ریئل اسٹیٹ ڈیولپرز بھی پاکستان میں ملکی ریئل اسٹیٹ ڈیولپرز کی طرح ہائوسنگ کالونیوں اور اکنامک زونز سمیت دیگر ریئل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ کر سکیں گے اور ان پر اس کیلیے وہی رولز اور قواعد لاگو ہونگے جو مقامی ریئل اسٹیٹ ڈیولپرز پر لاگو ہیں۔

 

1

اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں زرعی منصوبوں میں 60 فیصد تک حصص اپنے پاس رکھنے کی اجازت دیدی ہے جبکہ کارپوریٹ زرعی فارمنگ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 100 فیصد ایکویٹی کی اجازت دیدی گئی ہے۔

دستاویز میں بتایا گیاکہ بیرون ملک قائم پاکستانی سفارتخانوں کو دنیا کے 69 ممالک کے صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو24گھنٹے کے اندر 5 سال کے لیے ملٹی پل ویزے جاری کرنے کے اختیارات دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ سرمایہ کاری بورڈ کی سفارش پر بیرون ممالک میں تعینات پاکستانی مشنز کو غیرملکی ٹیکنیکل اینڈ منیجریل پرسنل کو ایک سال کے ورک ویزے جاری کرنے کے بھی اختیارات ہونگے اور ان ورک ویزوں میں سالانہ بنیادوں پر توسیع بھی کی جاسکے گی۔