پی ٹی وی کو چلانے کے لیے 13 ارب روپے کی ضمنی گرانٹ منظور

سرکاری ٹی وی ملک کے 20 بڑے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں میں شامل ہوگیا


شہباز رانا August 04, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن (پی ٹی وی) کے مالی بحران سے نمٹنے کے لیے 13 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ جبکہ سیالکوٹ۔ کھاریاں موٹروے منصوبے کے لیے 34 ارب 60 کروڑ روپے مالیت کی خودمختار (سوورن) ضمانتوں کی منظوری دے دی۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے ورچوئل اجلاس میں پی ٹی وی کے لیے 13 ارب روپے کی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے تنخواہوں، الائونسز، یوٹیلٹی بلز اور دیگر ضروری اخراجات کی ادائیگی کے لیے 20 ارب روپے طلب کیے تھے، تاہم ای سی سی نے 13 ارب روپے کی منظوری دیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ یہ رقم تقریباً 3 ارب 25 کروڑ روپے کی سہ ماہی اقساط میں جاری کی جائے گی۔

پی ٹی وی کمپنیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ادارہ ہے جبکہ سیکریٹری اطلاعات اشفاق احمد خلیل اس کے منیجنگ ڈائریکٹر بھی ہیں۔

وزارت خزانہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25میں پی ٹی وی کی آمدنی 22 فیصد کم ہو کر 14.3 ارب روپے رہ گئی، جبکہ ادارے کو 63 کروڑ 90 لاکھ روپے کا خالص خسارہ ہوا، جس کے باعث یہ ملک کے 20 بڑے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں میں شامل ہوگیا۔

ای سی سی نے 69 کلومیٹر طویل سیالکوٹ۔کھاریاں موٹروے منصوبے کے لیے 34 ارب 60 کروڑ روپے کی خودمختار ضمانتوں کی بھی منظوری دی۔

یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت ستمبر 2021 میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کی ذیلی کمپنی سیالکوٹ کھاریاں انفرا اسٹرکچر مینجمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کو دیا گیا تھا۔

منظور شدہ ضمانتوں میں 17 ارب 40 کروڑ روپے کیپٹل وائی ایبلٹی گیپ فنڈنگ، 10 ارب 30 کروڑ روپے کمرشل قرض کے حصول اور تقریباً 7 ارب روپے آپریشنل وائی ایبلٹی گیپ فنڈنگ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق ای سی سی نے 27 ارب 62 کروڑ روپے کی نئی خودمختار ضمانتیں جاری کرنے اور پہلے سے جاری 6 ارب 94 کروڑ روپے کی آپریشنل وائی ایبلٹی گیپ فنڈنگ کو رول اوور کرنے کی منظوری بھی دی، تاکہ منصوبے کے لیے نئی مالیاتی ساخت کے تحت فنانشل کلوز حاصل کیا جا سکے۔حکومت رواں سال فروری میں اس منصوبے کے پی پی پی معاہدے پر نظرثانی کر چکی ہے، جس کے تحت کمپنی کو چھ ماہ کے اندر مالیاتی معاملات مکمل کرنے کی شرط عائد کی گئی۔

تعمیراتی لاگت، مہنگائی، شرح سود میں اضافے اور منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلیوں کے باعث مالیاتی ڈھانچے پر بھی نظرثانی کی گئی۔

حکومت پہلے ہی رعایتی مدت (کنسیشن پیریڈ) 25 سال سے بڑھا کر 29 سال کر چکی ہے۔ منصوبے کے پہلے سال میں کار سے کم از کم 4.1 روپے فی کلومیٹر، منی بس سے تقریباً 10 روپے، بڑی بس سے 13.7 روپے اور بڑے ٹرک سے 23 روپے فی کلومیٹر ٹول وصول کیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کے مطابق اپریل 2026 سے جون 2027 کے دوران مختلف منصوبوں اور سرکاری اداروں کے لیے 683 ارب روپے کی نئی خودمختار ضمانتیں جاری کیے جانے کا تخمینہ ہے۔ اس وقت حکومتی خودمختار ضمانتوں کا مجموعی حجم 4.4 کھرب روپے ہے، جو آئندہ سال جون تک 5 کھرب روپے سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ خودمختار ضمانتوں میں سے 2.4 کھرب روپے سے زائد بجلی کے شعبے جبکہ 895 ارب روپے مختلف اجناس کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی سے متعلق آپریشنز کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔