کراچی کا مستقبل

کراچی میں نہ لسانی جھگڑے تھے نہ کوئی تعصب، سب مل جل کر رہتے تھے.


Muhammad Saeed Arain March 26, 2013

کراچی جب کبھی مچھیروں کی بستی اور کولاچی تھا تب یہ ایک غیر ترقی یافتہ مگر پرسکون علاقہ تھا، بعد میں یہ کراچی بنا اور قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے آنے والوں نے اسے اپنا مسکن بنا لیا، پاکستان کا پہلا دارالحکومت بھی کراچی بنا تو ترقی شروع ہوئی، پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کے لوگوں نے بھی کراچی میں بسنا شروع کر دیا۔ کراچی میں قیام پاکستان سے قبل بلوچوں اور ہندوؤں کی بڑی تعداد آباد تھی اور دیہی علاقوں میں قدیم سندھی آبادیاں موجود تھیں۔ لیاری بلوچوں کی شناخت ہے، تھا اور رہے گا اور بلوچ صرف لیاری ہی میں نہیں بلکہ موجودہ کراچی کے ہر ضلع اور دیہی علاقوں میں آباد ہیں اور بلوچوں کا جینا مرنا کراچی کے ساتھ ہے۔

قیام پاکستان کے بعد مہاجروں کی آبادی کراچی میں بڑھنے لگی، شہر میں پھیلتی ہوئی صنعتی ترقی اور تجارتی وسعت کے باعث ملک بھر سے لوگوں نے کراچی میں روزگار حاصل کرنا شروع کر دیا اور ہندوستان سے آنے والے جو لوگ اندرون سندھ آباد ہو گئے تھے انھوں نے بڑی تعداد میں کراچی آنا شروع کر دیا، اندرون سندھ تجارتی اور صنعتی ترقی نہ ہونے کے برابر تھی اور ملازمت کے سلسلے میں سندھیوں نے بھی کراچی کو ترجیح دینا شروع کی، اس وقت اندرون سندھ کوئی تعصب تھا، نہ کراچی میں آباد پرانے بلوچوں اور ہندوستان سے آ کر آباد ہونے والوں کے درمیان کوئی تنازعہ تھا۔

قیام پاکستان کے بعد کراچی کے ٹاور، کیماڑی، کھارادر، لیمارکیٹ، نیو کوئنز روڈ اور پورٹ کے اطراف کسی خالی عمارت پر بلوچ محنت کشوں نے قبضہ نہیں کیا۔ ریکارڈ پر پوری صورتحال موجود ہے۔ پٹھانوں اور پنجابیوں کی بھی بڑی تعداد سرکاری و نجی ملازمتوں، محنت مزدوری اور کاروباری ترقی کے لیے کراچی آتی رہی جب کہ سقوط ڈھاکا سے قبل تک بنگالی بھی بڑی تعداد میں موجود تھے اور کراچی مختلف قوموں پر مشتمل پھولوں کا گلدستہ تھا جسے منی پاکستان بھی کہا جاتا تھا اور سب مل کر رہتے تھے، کراچی دن ہی نہیں راتوں کو بھی جاگتا تھا۔

کراچی میں نہ لسانی جھگڑے تھے نہ کوئی تعصب، سب مل جل کر رہتے تھے، سب ایک دوسرے کی ضرورت تھے اور ان سب کی مشترکہ کوششوں سے ہی کراچی ترقی کرتا رہا۔ کوئی بھتہ خوری نہ تھی۔ پرچی ناسور نا تھا۔ گینگ وار کارندے نہ تھے۔ قربانی کی کھالوں پر چھینا جھپٹی نہیں ہوتی تھی۔ کراچی کی ترقی شہر میں مستقل اور عارضی رہنے والوں ہی کی نہیں بلکہ ملک کی ترقی تھی کیونکہ ملک کی معیشت کا گڑھ اور پاکستان کو چلانے کا شہر تھا۔

کراچی میں تعصب ایوب خان کے دور میں پیدا ہوا اور بھٹو دور میں پروان چڑھا۔ پہلے پٹھان مہاجر فساد ہوا، پھر سندھی مہاجر جھگڑے شروع ہوئے تو بھٹو دور میں سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کر کے سندھ کو دیہی اور شہری میں تقسیم کر دیا گیا۔ بھٹو دور میں صرف پہلے جی ایم سید قوم پرست رہنما تھے مگر بعد میں سندھ میں قوم پرستی بڑھتی گئی۔ اور کراچی میں مہاجر ازم نے سر اٹھایا۔ اردو کا جنازہ نکلنے پر کراچی میں جلوس نکلے، قیادت کے شوق میں قوم پرستوں کے رہنما اور پارٹیاں بڑھیں، بھٹو دور کے اسی دور میں لسانی فساد کے باعث پہلی بار اندرون سندھ کے مہاجروں کو کراچی نقل مکانی کرنا پڑی، پھر محترمہ کے دور میں لسانی تعصب بھڑکا کر قوم پرستوں نے مزید مہاجروں کو کراچی آنے کا موقع دیا۔

اندرون سندھ قوم پرستی بڑھی تو حیدر آباد اور کراچی میں بھی تعصب بڑھا اور ایم کیو ایم وجود میں آئی اور کراچی و حیدر آباد کے اردو بولنے والوں کے دیگر قوموں سے جھگڑے ہوئے یا سیاست کرانے کے لیے کرائے گئے اور نتیجے میں متحدہ سندھ کی دوسری بڑی پارٹی بن گئی جب کہ پیپلز پارٹی دیہی سندھ کی بڑی پارٹی تھی اور تیسری پارٹی بننے کے لیے کراچی میں اے این پی نے ایک اور لسانی پارٹی کا رنگ اختیار کر لیا۔ آج کا کراچی اسی کشمکش کا خونیں باب پیش کر رہا ہے۔ وہ محبتیں خواب و خیال ہوئیں اور پر تشدد سیاست اور ایک دوسرے پر غلبہ کے جنون نے کراچی کا چہرہ مسخ کر دیا۔

آصف زرداری کی پیپلز پارٹی اور صدارت کے 5 برسوں میں کوئی سندھی مہاجر فساد تو نہیں ہوا مگر متحدہ اور اے این پی کی حکومت کی مخالفت میں اندرون سندھ قوم پرستوں نے اپنی سیاست چمکائی تو ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے متحدہ کی مخالفت میں لیاری میں پیپلز امن کمیٹی اپنی سرپرستی میں قائم کرائی اور وہاں اسلحے کی بھرمار کرا دی۔ پیپلز امن کمیٹی نے لیاری سے نکل کر اپنی بھتہ خوری بڑھائی تو اردو بولنے والوں کی اکثریت کی نمایندہ جماعت متحدہ نے اس کی مزاحمت کی جس کا فائدہ متحدہ کی مخالفت میں اے این پی نے اٹھایا اور امن کمیٹی سے مل گئی جس کے بعد سے اب کراچی لسانی علاقوں میں تقسیم ہے اور جس کا جہاں زور ہے وہ وہاں اپنی طاقت دکھا کر جو چاہے کر سکتا ہے۔

سپریم کورٹ میں حکومت نے تسلیم کر لیا ہے کہ کراچی میں بہت سے نو گو ایریاز ہیں اور لیاری اب ایک ایسا خطرناک علاقہ بن چکا ہے جہاں سے حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے اور لیاری کے اندرونی علاقوں میں جانے کی ہمت اب پولیس اور رینجرز ہی نہیں بلکہ فوج بھی نہیں کر سکے گی اور اب لیاری میں پیپلز امن کمیٹی ایک مضبوط سیاسی قوت ہے۔ لیاری پہلے پی پی کا گڑھ تھا مگر اب امن کمیٹی کا گڑھ اور پیپلز پارٹی بھی اب اس کی محتاج ہے۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے اپنی وزارت میں بلوچوں کو کراچی کے اردو بولنے والوں سے لڑانے کا جو پودا لگایا تھا حلقے میں بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہیں اور وہ لیاری میں پی پی کے لیے مشکلات پیدا کر گئے تھے جس کے نتیجے میں اب لیاری پی پی کا گڑھ نہیں رہا۔

کراچی و حیدر آباد کی نمایندگی کی دعویدار متحدہ میں اب ایک ایسا قدیمی بلوچ رہنما نبیل گبول شامل ہو گیا ہے جو تین دہائی پی پی پی میں رہا مگر پیپلز امن کمیٹی اس کی شدید مخالف ہے۔ صدر زرداری کے دور میں سندھ میں سندھیوں اور اردو بولنے والوں میں جھگڑے نہیں ہوئے جب کہ اس سے قبل پی پی کے ہر دور میں یہ جھگڑے ہوئے اور اندرون سندھ سے کراچی آنے والوں کی تعداد بڑھی۔

سندھی کراچی میں عزت و امن سے رہ رہے ہیں اور کسی تنازعے میں بھی نہیں ہیں جب کہ پٹھانوں کو اے این پی کی پالیسی سے بڑا جانی نقصان پہنچا ہے۔ کراچی کے اردو بولنے والے بلوچ اور یہاں آباد سندھیوں کے علاوہ پٹھان بھی کراچی کا مستقبل ہیں۔ نبیل گبول بلوچ ہونے کے ناتے بلوچوں اور اردو بولنے والوں کو قریب لا سکتے ہیں۔ اس موقعے پر کراچی میں امن برقرار رکھنے اور خونریزی روکنے کے لیے امن کمیٹی اور اے این پی کو بھی دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور اپنی لسانی سیاست کے بجائے کراچی کے اچھے مستقبل کے لیے لچک کا مظاہرہ ضرور کرنا ہو گا۔

مقبول خبریں