ڈاکٹروں کا سروس اسٹر کچر اپ گریڈ نہ ہونے پر سیکریٹری صحت طلب

سندھ میں نگراں حکومت کے خلاف مسلم لیگ فنکشنل کی درخواست پر مدعا علیہان کونوٹس جاری کردیے گئے.


Staff Reporter March 28, 2013
سندھ میں نگراں حکومت کے خلاف مسلم لیگ فنکشنل کی درخواست پر مدعا علیہان کونوٹس جاری کردیے گئے. فوٹو: فائل

KARACHI: سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے ڈاکٹروں کاسروس اسٹرکچر اپ گریڈ نہ کرنے کے خلاف دائر کردہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن(پی ایم اے ) کی درخواست پر سیکریٹری صحت کو طلب کرلیا۔

پی ایم اے کی درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ سندھ میں ڈاکٹرز کا سروس اسٹرکچر امتیازی ہے،1994میں تیار کئے گئے سروس اسٹرکچر کے تحت اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی مجموعی نشست کا ایک فیصدحصہ گریڈ 20 کیلیے،15فیصدگریڈ19کیلیے،34فیصدگریڈ18کیلیے اور 50فیصد گریڈ17کیلیے مختص کیا گیاتھا،سروس گریڈ کی اپ گریڈیشن کیلیے ڈاکٹرز آواز بلند کرتے رہے ، 25 جنوری 2011 کو وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں ڈاکٹرز کے سروس اسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کا فیصلہ کیا گیاجو کہ مارچ2011سے نافذالعمل ہوا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسٹرکچر سالانہ بنیادوں پر اپ گریڈ کیا جائے گا۔



فیصلے کے مطابق مارچ2012میں اجلاس منعقد ہونا تھا تاکہ اسٹرکچرکی اپ گریڈیشن کا فیصلہ ہوسکے مگر تا حال اجلاس منعقد نہیں کیا گیا، علاوہ ازیں سندھ میں نگراں حکومت کے خلاف مسلم لیگ فنکشنل کی درخواست پر مدعا علیہان کو 8اپریل کے لیے نوٹس جاری کردیے گئے،مسلم لیگ(ف) نے نگراں وزیر اعلیٰ سندھ اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کوسندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

پی ایم ایل(ف) کی رہنما نصرت سحر عباسی اور جام مددعلی کی جانب سے دائر درخواست میں وفاقی وزارت قانون،چیف سیکریٹری، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ف) نے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے تقرر کیلیے 10ارکان کے دستخط سے اسپیکر کو درخواست دی تھی تاہم کوئی فیصلہ نہ کرنے پر سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا جس پر سندھ ہائیکورٹ نے قائد حزب اختلاف کی تقرری کیلیے اسپیکر سندھ اسمبلی کو10دن کی مہلت دی ،مقررہ مدت میں قائد حزب اختلاف کا تقر ر نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی جس کے بعد اسپیکر نے متحدہ قومی موومنٹ کے سید سردار احمد کو قائد حزب اختلاف مقرر کردیا، اس کے بعدعدالت عالیہ نے توہین عدالت کی درخواست نمٹادی۔