شاہ فیصل کالونی پولیس نوجوان کے قاتل گرفتارنہ کرسکی

33 سالہ افتخارایئر پورٹ پرمسافروں کو خدمات فراہم کرنیوالی نجی کمپنی میں ملازم تھا.


Staff Reporter March 28, 2013
افتخار احمد کی یاد گار تصویر ۔ فوٹو : ایکسپریس

شاہ فیصل کالونی پولیس 10روز قبل ایئر پورٹ پرمسافروںکوخدمات فراہم کرنے والی نجی کمپنی کے ملازم کے قتل کا سراغ نہ لگا سکی ۔

مقتول 2 بچوں کا باپ تھا اوراہلخانہ کے ساتھ ساتھ مرحوم بھائی کے بچوں کی بھی کفالت کیا کرتا تھا ، تفصیلات کے مطابق شاہ فیصل کالونی کے علاقے رحمن آباد الحیدر سوسائٹی میں فائرنگ کر کے قتل کیے جانے والے33 سالہ افتخار احمد عرف کالا ولد محمد فاروق کے قتل کے واقعے کو10روز گزر جانے کے باوجود شاہ فیصل انویسٹی گیشن پولیس قاتلوں کا سراغ نہ لگا سکی،مقتول کے اہلخانہ میت مانسہرہ کے گائوں حفیظ باندھی لے گئے جہاں مقتول کی تدفین ہوئی۔



مقتول نے 4 سالہ بیٹی ، ڈیڑھ سالہ بیٹے اور بیوہ کو سوگوار چھوڑا ہے ، مقتول اہلخانہ کے ساتھ ساتھ بڑے بھائی پولیس اہلکار ملک اظہرکے بچوںکی بھی کفالت کیا کرتا تھا ،مقتول کراچی ایئر پورٹ پر مسافروں کو خدمات فراہم کرنے والی نجی کمپنی میں لوڈر تھا ، مقتول افتخار کے قریبی رشتے دار ساجدحسین نے ایکسپریس کو بتایا کہ 18مارچ کی رات 3 بجے کے قریب 3 نقاب پوش ملزمان دیوار کود کر گھر میں داخل ہوئے ۔

سوئے ہوئے مقتول کے والد عمر فاروق اور چھوٹا بھائی شہزاد آواز سن کر اٹھ گئے اور جب انھوں نے نقاب پوش ملزمان سے پوچھا کہ کون ہو اور کیا چاہتے ہو تو ملزمان نے اپنے آپ کو پولیس اہلکار ظاہر کیا، اسی دوران مقتول کے چھوٹے بھائی شہزاد نے اپنے بڑے بھائی افتخار کو آواز دی اور جیسے افتخار نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا تو ملزمان نے کسی قسم کی کوئی بات کیے بغیر افتخار احمد پر فائرنگ کردی ،افتخار ماتھے پر گولی لگنے سے زخمی ہو کر زمین پر گرگیا اور اسی دوران ملزمان شہزاد کو پرس لے کر فرار ہو گئے اور جب افتخار کو اسپتال لے