وکیل سرکار نے شاہ زیب قتل کے7گواہ فہرست سے خارج کر دیے

انسدادہشتگردی کی خصوصی عدالت نے غیرحاضری پر2گواہوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے، تفتیشی افسرکوشوکازنوٹس جاری


Staff Reporter March 28, 2013
آئی جی کومقدمے میں دلچسپی لینے کی ہدایت،ملزمان کوجیل میں بی کلاس فراہم کرنیکی درخواست پردستاویزات کی تصدیق کاحکم فوٹو: فائل

اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرنے شاہ زیب قتل کیس میں استغاثہ کے7گواہوں کو فہرست سے خارج کردیا۔

چشم دیدگواہوں کوعدالت میں پیش نہ کرنے پر تفتیشی افسر کوشوکاز نوٹس جاری کیے ہیں،دو گواہوں کو عدالت میں پیش نہ ہونے پروارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے ہیں،مقدمے میں نامزد ملزمان کو جیل میں بی کلاس کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق درخواست پر ملزمان کے دستاویزات کی تصدیق کرانے کاحکم دیاگیاہے۔تفصیلات کے مطابق بدھ کو جیل حکام نے مقدمے میں ملوث شاہ رخ جتوئی،سراج تالپور،سجاد تالپوراورغلام مرتضٰی لاشاری کوپیشی کیلیے انسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج غلام مصطفی میمن کے روبروپیش کیاتھا۔

سماعت کے موقع پراستغاثہ کے7گواہ سب انسپکٹر شاہد تاج ، سب انسپکٹر وسیم آبڑو ، ملک سلیم ، سپاہی طاہر محمود ، جمیل احمد ، کامران مرزا اور اینکر شاہ زیب خانزادہ عدالت میں موجود تھے تاہم وکیل سرکار نے عدالت کو بتایاکہ عدالت میں موجود گواہوں کے بیانات سے استغاثہ کو کوئی سپورٹ حاصل ہوئی اورنہ ہی مقدمے میں کوئی شواہد موصول ہونگے ان کی گواہی سے عدالت کا قیمتی وقت ضائع ہونے کے مترادف ہے لہذا انھیں گواہوں کی فہرست سے خارج کردیا ہے ۔



فاضل عدالت نے دو گواہوںکامران اور امین اظہر کوطلب کیا جو کہ غیرحاضر تھے اوران کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے تفتیشی افسرکوانھیں عدالت میں آج پیش کرنیکاحکم دیا، بعدازاں فاضل عدالت نے تفتیشی افسرکودو چشم دید گواہوںکو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔اس موقع پر تفتیشی افسر نے عدالت کوبتایا کہ دونوں گواہ شہرمیں موجود نہیں،انھیں تلاش کیا لیکن وہ نہیں مل سکے۔عدالت نے گواہوں کو عدالت میں پیش کرنے کی ناکامی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈی آئی جی شاہد حیات کو فوری طلب کرلیا،ڈی آئی جی نے عدالت کو یقین دلایا کہ آئندہ عدالتی احکامات نظرانداز اور گواہوں کی ہرحالت میں حاضری یقینی بنائی جائے گئی۔