مجرموں کی سرپرستی کلری اور چاکیواڑہ کے سابق تھانیدار برطرف

جاوید بلوچ اور چاند خان نیازی کو ارشد پپو اور ساتھیوں کے سرعام قتل پر معطل کیا گیا تھا.


Staff Reporter March 28, 2013
جاوید بلوچ اور چاند خان نیازی کو ارشد پپو اور ساتھیوں کے سرعام قتل پر معطل کیا گیا تھا۔ فوٹو: فائل

آئی جی سندھ نے سابق ایس ایچ او کلری اور ایس ایچ او چاکیواڑہ کو جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے کے الزام میں محکمہ پولیس سے برطرف کر دیا۔

جبکہ ایس ایچ او بغدادی کے خلاف انکوائری کی جا رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ نے سابق ایس ایچ او چاکیواڑہ انسپکٹر جاوید بلوچ اور ایس ایچ او کلری انسپکٹر چاند خان نیازی کو جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے کے الزام میں محکمہ پولیس کی ملازمت سے برطرف کر دیا۔

جبکہ موجودہ ایس ایچ او بغدادی سب انسپکٹر عابد تنولی کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری کی جا رہی ہے ذرائع نے بتایا کہ ارشد پپو اس کے بھائی یاسر عرفات اور ان کے دوست جمعہ شیر عرف شیرا کے اغوا اور لیاری میں سرعام قتل کے بعد آئی جی سندھ نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ایس ایچ او کلاکوٹ انسپکٹر تصور امین ، ایس ایچ او چاکیواڑہ جاوید بلوچ اور ایس ایچ او کلری چاند خان نیازی کو معطل کر دیا تھا ۔



آئی جی سندھ کے حکم پر ایس ایچ او کلری اور ایس ایچ او چاکیواڑہ کو شوکاز نوٹس جاری کر کے فوری طور پر جواب طلب کیے تھے اور ان کے جواب کے بعد انھیں فوری طور پر محکمہ سے برطرف کر دیا گیا ، ذرائع نے بتایا کہ ارشد پپو کے اغوا کے لیے چاکیواڑہ تھانے کی 2 پولیس موبائلیں استعمال کی گئی تھیں جبکہ واقع میں انسپکٹر جاوید بلوچ بھی ملوث تھے ، آئی جی سندھ نے ارشد پپو کے اغوا کے وقت موبائلوں کے بارے دریافت کیا تھا۔

جس کا وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے تھے جبکہ ایس ایچ او کلری نے اپنے جواب میں بتایا تھا کہ ارشد پپو کے اغوا کے وقت وہ ایس پی اولڈ سٹی ایریا کے پاس تھے تاہم انکوائری کمیٹی نے اس بات کی معلومات کیں تو وہ غلط نکلیں۔