پولیس فائرنگ سے ہلاک انتظار قتل کیس کا سرکاری وکیل اچانک تبدیل

سرکاری وکیل نے ملزمان کیساتھ نرمی سے انکار کیاتھا،ملزمان کیخلاف قتل کی دفعہ تبدیل کرکے قتل خطالگانے پرغورجاری ہے،ذرائع


Staff Reporter February 10, 2018
اے سی ایل سی اہلکاروں کی فائرنگ سے قتل نوجوان کاکیس التوا کا شکار،پولیس اہلکاروں کیخلاف چالان پیش نہیں کررہی۔ فوٹو: فائل

ڈیفنس میں اے سی ایل سی پولیس کی مبینہ فائرنگ سے قتل نوجوان انتظار احمد کے کیس میں سرکار کی طرف سے کیس کی پیروی کرنے والے وکیل کو اچانک تبدیل کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے کیس التوا کا شکار ہوگیا۔

ایک ماہ گزرنے کے باوجود مقدمے میں نامزد اے سی ایل سی پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف مقدمہ کا چالان عدالت میں جمع نہیں کرایا گیا سرکار کی طرف سے کیس کی پیروی کرنے والے وکیل کو اچانک تبدیل کردیا گیا ہے کیس کے سرکاری وکیل عبدالرزاق گجر کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج 6 نمبر سے 9 نمبر میں تعینات کردیا گیا۔

گزشتہ روز انتظار احمد قتل کیس کی سماعت ایڈیشنل اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں ہوئی اس موقع پر پولیس کی جانب سے مقدمہ کا چالان پیش نہیں کیا گیا۔

پراسیکیوٹر عبد الرزاق گجر کا کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر سندھ آفس کی جانب سے ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر سندھ کو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں انھیں اچانک اس کیس سے الگ کردیا گیا ہے اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج 6 نمبر سے 9 نمبر میں تعینات کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سرکاری وکیل نے ملزمان پر ہاتھ ہلکا رکھنے سے انکار کردیا تھا ملزمان کو با اثر افسراں کی پشت پناہی حاصل ہے ملزمان کے خلاف کیس کا چالان بھی تاحال پیش نہیں کیا جاسکا۔

وکیل سرکار کے ذرائع کے مطابق ملزمان کے خلاف قتل کے دفعہ کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور قتل خطا کی سیکشن لگانے پر غور جاری ہے۔

واضح رہے کہ شہری انتظار کو 13 جنوری ڈیفنس کے علاقے میں پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا اس کیس میں ایس ایچ او طارق سمیت 8پولیس اہلکار گرفتار ہیں۔