شاہ جہاں بلوچ کی گرفتاری منصوبہ بندی کا حصہ پی پی کا امیدوارہے

آج ریٹرننگ افسر کے دفتر میں این اے 248 لیاری کیلیے کاغذات نامزدگی جمع کرائیگا


Staff Reporter March 29, 2013
آج ریٹرننگ افسر کے دفتر میں این اے 248 لیاری کیلیے کاغذات نامزدگی جمع کرائیگا فوٹو: فائل

ارشد پپو اور اس کے بھائی سمیت3 افراد کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزم شاہجہاں بلوچ کی سینٹرل جیل سے گرفتاری منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔

ملزم کو لیاری آپریشن کے دوران ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم نے گرفتار کر کے جیل بھیجا تھا جہاں سے وہ اثر رسوخ استعمال کر کے بیماری کا بہانہ کر کے لیاری جنرل اسپتال آگیا تھا، ملزم آئندہ24 گھنٹے کے دوران ریٹرنگ آفیسر کے دفتر آکر قومی اسمبلی کی نشست این اے 248 کیلیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گا۔ ذرائع کے مطابق کلاکوٹ انویسٹی گیشن پولیس نے کراچی سینٹرل جیل سے لیاری ٹاؤن یوسی11کے سابق ناظم شاہجہاں بلوچ اور غفار عرف ماما کو ارشد پپو اور اس کے بھائی سمیت3افراد کے قتل کے مقدمے میں گرفتار کر لیا۔

ذرائع نے بتایا کہ شاہجہاں بلوچ اور غفار عرف ماما کو لیاری آپریشن کے دوران ایس ایس پی سی آٓئی ڈی چوہدری محمد اسلم کی ٹیم نے گرفتار کر کے ان کے قبضے سے راکٹ لانچر سمیت بھاری اسلحہ برآمد کیا تھا ، ملزمان کئی ماہ تک جیل میں رہنے کے بعد مبینہ طور پر بیمار ہو گئے تھے جنھیں علاج کے لیے سینٹرل جیل کے اسپتال میں منتقل کر دیا گیا تھا جہاں سے انھوں نے اثر رسوخ استعمال کر کے اپنے آپ کو لیاری جنرل اسپتال منتقل کرا لیا تھا ، ذرائع نے بتایا کہ لیاری جنرل اسپتال منتقلی کے بعد وہ مستقل اپنے گھر میں رہائش پزیر تھے اور لیاری میں ہونے والے مختلف تقریبات میں بھی حصہ لے رہے تھے ۔



ملزمان لیاری گرلز ڈگری کالج کے افتتاح اور لیاری میں ثقافتی پروگرام میں بھی پیش پیش تھے۔ واضح رہے لیاری گرلز ڈگری کالج کا افتتاح سینیٹر یوسف بلوچ نے کیا تھا ، ذرائع نے بتایا کہ شاہجہاں بلوچ کو پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت اور لیاری کی مقامی قیادت نے باہمی مشورے کے بعد پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کی نشست NA-248 کا امیدوار نامزد کیا ہے ، ذرائع نے بتایا کہ شاہجہاں بلوچ یا ان کا نمائندہ آئندہ24گھنٹے کے اندر ریٹرننگ آفیسر ساؤتھ کے دفتر میں اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ کلاکوٹ تھانے کے انویسٹی گیشن افسر انسپکٹر عابد انصاری نے وزرات داخلہ کو تحریری طور پر جیل میں قید شاہجہاں بلوچ کی ارشد پپو قتل کے مقدمے میں گرفتاری کے لیے لکھ کر دیا تھا جس پر بدھ کی شب سینٹرل جیل سے ایک بکتر بند اور ایک جیل کی گاڑی آئی تھی جہاں سے شاہ جہاں بلوچ اور غفار عرف ماما کو حراست میں لے کر سینٹرل جیل منتقل کر دیا تھا ۔