ارشدپپوقتلشاہ جہاں بلوچ کی جیل سے گرفتاری کاحکم

انسداددہشتگردی کی عدالت نے ارشدپپوکی درخواست پرتفتیشی افسرکواین اوسی جاری کردیا


Staff Reporter March 29, 2013
شوہراوردیور ڈیفنس میں شادی میں گئے تھے،بابالاڈلہ اور 20سے زائدافرادنے اغواکرلیا،بیوہ فوٹو: فائل

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے ارشدپپوکیس میں ملوث شاہ جہا ں بلوچ کوجیل سے گرفتارکرنے کیلیے تفتیشی افسرکواین اوسی جاری کرتے ہوئے گرفتارکرنے کاحکم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ کلاکوٹ کے پولیس افسر نے ارشدپپوسمیت دیگرکے قتل میں ملوث جیل میںقیدسابق یو سی ناظم ملزم شاہ جہاں کوجیل سی گرفتارکرنے سے متعلق درخواست دائرکی تھی اورمؤقف اختیار کیاتھا کہ ملزم تین مقدمات میں جیل میں قیدہے اور مقدمات فاضل عدالت میں زیرسماعت ہیں،ملزم کے خلاف تھانہ کلاکوٹ میں ارشدپپواس کے بھائی یاسر عرفات اورشیراپٹھان کے قتل کامقدمہ درج ہوا ہے،ملزم کو نامزد کیاگیاہے چالان جمع کرانے کیلیے تفتیش کرنی ہے۔



ملزم کو جیل سے گرفتار کرنے کیلیے این او سی جاری کرنے کی استدعاکی تھی،فاضل عدالت نے ملزم کواین او سی جاری کرتے ہوئے جیل حکام کوملزم کوتفتیشی افسرکے حوالے کرنے کی ہدایت کی ہے۔استغاثہ کے مطابق تھانہ کلاکوٹ میں مسماۃ آسماء نے رپورٹ درج کرائی ہے۔

جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ16مارچ کواس کے شوہر ارشدپپو،یاسر عرفات شیرا پٹھان ودیگراس کے10سالہ بیٹے سدیس کے ہمراہ ڈیفنس میں ایک تقریب میں گئے تھے رات گئے اسے 10 سالہ بیٹے نے گھر آکربتایاکہ تقریب کے دوران20کے قریب افرادان کے والد ارشد پپو، چجا یاسر عرفات اور شیراپٹھان کواسلحے کوزورپراپنے ہمراہ لے گئے،اس نے زبیر بلوچ ،نورمحمدعرف بابالاڈلہ،زید بابا،آصف ،فضل پٹھان اورزاکر داداکوشناخت کیاہے اس کے شوہر دیور شاہ جہاں کی ایماپربہمانہ تشدد کے بعد قتل کیاگیااورلاش کو گٹر میں ڈال دی تھی ۔