سرنج سے نشہ کرنیوالوں کی تعداد40 فیصد ہو گئی ایڈز اور ہیپا ٹائٹس بڑھنے لگا

جنسی اوردیگر رویوں میں تبدیلی آرہی ہے،سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کی رپورٹ


Staff Reporter March 29, 2013
سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والوں کی تعداد 40 فیصد ہوگئی ہے۔ فوٹو: رائٹرز/ فائل

کراچی میں سرنجوں کے ذریعے نشہ کرنے والوں کی تعدادہولناک صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔

استعمال شدہ سرنجوں کو دوبارہ استعمال کرنے سے ایچ آئی وی ایڈز، ہیپاٹائٹس کے مرض تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والوں کی تعداد 40 فیصد ہوگئی ہے جوایک خوفناک صورت ہے،اس صورتحال کوفوری روکنے اورتدارک کیلیے ضلعی سطح پر ٹاسک فورس قائم کی جائیگی۔

یہ بات سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام کے صوبائی مینجر ڈاکٹرمحمد احمد قاضی نے بتائی انھوں نے ایک تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والوں کے رویوں میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے ایسے افراد جو استعمال شدہ سرنجوں کے ذریعے دوبارہ انجکشن کے ذریعے نشے کی لت میں مبتلا ہیں ان کے دماغ میں کیمیائی تبدیلی بھی رونما ہونے لگتی ہے ۔



انھوں نے کہاکہ ایک سرنج کے استعمال کے بعدوہ سرنج آلودہ ہوجاتی ہے اوراس کودوبارہ استعمال کرناانتہائی خوفناک ہوتا ہے نشہ کرنے والے افراد ایک ہی سرنج سے کئی افرادکوانجکشن کے ذریعے نشہ کرارہے ہیں جس سے کراچی میں ایچ آئی وی ایڈز اورہیپاٹائٹس کامرض تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

انھوں نے کہاکہ سندھ ایڈزکنٹرول پروگرام نے کراچی میں انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والوں کی روک تھام کیلیے کراچی کے پانچوں اضلاع کی ضلعی انتظامیہ اورانتطامی سربراہوں کو مکتوب لکھا ہے کہ وہ اپنے اپنے ضلعوں میں سرنج کے ذریعے نشہ کرنے والوںکاسروے کرائیں اوران کی حوصلہ شکنی کیلیے ٹاسک فورس کمیٹی قائم کی جائے۔