ڈی جے کالج کی عمارت پر قبضے کیخلاف اساتذہ وطلبہ کا احتجاج

وزیراعلیٰ اپنی مادر علمی ڈی جے کالج کی عمارتوں پرقبضہ فوری ختم کرائیں، طلبہ


Staff Reporter February 22, 2018
ڈی جے کالج کی تاریخی عمارت کواصل صورت بحال کیاجائے، پروفیسر شمس ابڑو۔ فوٹو: فائل

ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کا لج کی تاریخی عمارت پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ اوراسکول ایجوکیشن کے قبضے کے خلاف ڈی جے کالج جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام مظاہرہ کیا گیا۔

ڈی جے کالج جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام مظاہرہ میں طلبہ وطالبات، اساتذہ اور ڈی جے کالج کے ملازمین نے شرکت کی طلبہ و طالبات نے پلے کا رڈز اٹھارکھے تھے جن پر درج تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اپنی مادر علمی ڈی جے سائنس کالج کی عمارتوں پر قبضہ فوری ختم کرائیں۔

طلبہ نے ڈی جے سائنس کالج کے کمپیوٹر سائنس ڈپارٹمنٹ کی تاریخی عمارت پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ اور اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کا ناجائز قبضہ نامنظور، لینڈمافیا کے ایجنٹ مصطفی جمال قاضی کو برطرف کرو کے نعرے لگائے۔

مظاہرے سے پروفیسر شمس الدین ابڑو نے خطاب میں کہا کہ ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کی تاریخی عمارت کو اس کی اصل صورت میں بحال کیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ ڈی جے سائنس کالج کی تاریخی عمارت پر اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے قبضے کا فوری نوٹس لیں۔

پروفیسر منیر عالم خان نے کہا کہ ڈائریکٹر مصطفیٰ جمال قاضی دراصل لینڈ مافیا کے ایجنٹ کے طور پر کام کرہا ہے اس شخص نے بحیثیت ڈپٹی کمشنر جنوبی کے محمد علی شیخ سے اپنا حصہ وصو ل کرکے دستاویزات میں جعل سازی کرکے تاریخی سندھ مسلم سائنس کالج کی زمین سندھ مدرسہ یونیورسٹی کے نا م منتقل کی اور اب بحیثیت ڈائریکٹر اسکول کے تاریخی ڈی جے سائنس کالج پر حملہ آور ہے ڈی جے سائنس کالج وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی اپنی مادر علمی ہے ہم سید مراد علی شاہ سے اپیل کرتے ہیں کہ ڈی جے سائنس کا لج کے کمپیوٹر سائنس ڈپارٹمنٹ پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ اور اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کا قبضہ ختم کرکے اس عمارت کو فوری طو ر پر ڈی جے سائنس کالج کو واپس کیا جائے تاکہ کمپیوٹر سائنس ڈپارٹمنٹ کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں بحال کیا جاسکے۔

سپلا کے صدر فیروز احمد صدیقی نے کہاکہ ڈی جے سائنس کا لج کی تعلیمی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں یہ سند ھ کی تاریخی درسگاہ ہے اسکول ایجوکیشن اور کالج ایجوکیشن کا محکمہ علیحدہ ہوچکا ہے لہذا اسکول والوں کو اپنا دفتر بھی الگ کرنا چاہیے تاکہ طلبہ سکون سے اپنی تعلیم حاصل کریں۔