عدلیہ کسی منصوبے کاحصہ ہو تونقصان ملک کاہوتا ہےعاصمہ جہانگیر

عدالت نے وزیراعظم کونوٹس خاص حکمت عملی کے تحت جاری کیا،گفتگو


Numainda Express August 09, 2012
عدالت نے وزیراعظم کونوٹس خاص حکمت عملی کے تحت جاری کیا،گفتگو۔ فوٹو فائل

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے وزیر اعظم کو توہین عدالت کے الزام میں شوکاز نوٹس جاری کرنے پر تحفظات کا اظہارکیااورکہاہے کہ اگرعدلیہ کسی منصوبے کاحصہ ہو تونقصان ملک کاہوتا ہے، میڈیاسے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ عدالت نے کسی خاص حکمت عملی کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیا ہے ،اتنی جلد بازی کی ضرورت نہیں تھی اگرعیدتک سماعت ملتوی ہوجاتی توکچھ نہیں ہوتا نہ ہی وزیر اعظم بھاگ جاتے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ارسلان کیس کی سماعت عیدکے بعدتک ملتوی ہوسکتی ہے تو وزیر اعظم کے مقدمے کی سماعت بھی ہو سکتی تھی ۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا آج ایک سیاہ دن ہے جو جمہوری نظام کے اختتام کا آغاز ہے ان کا کہنا تھا کہ سیاستدان جتنے بھی گندے کیوں نہ ہو لیکن ملک انھوں نے چلانا ہے ۔ عاصمہ جہانگیر نے بارکونسل پر بھی تنقیدکی اورکہاکہ وہ خودتوہین عدالت قانون کی کچھ شقوںکیخلاف ہیں لیکن قانون کو چیلنج کرنااورکالعدم ہونے پرخوشی مناناوکلا کاکام نہیں ۔ انھوں نے کہا وکلا کا جانثار گروپ عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔