سیکیورٹی خدشات کو مد نظر رکھا جائے

ملکی میڈیا خبردار کرچکا ہے کہ بعض انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے۔۔۔


Editorial April 03, 2013
ملکی میڈیا خبردار کرچکا ہے کہ بعض انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی دھمکی بھی دے چکی ہیں۔ فوٹو: فائل

خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں پیر اور منگل کی درمیانی شب نامعلوم شدت پسندوں کی جانب سے 500 کے وی گرڈ اسٹیشن پر 14 راکٹ فائر اور دھماکے کیے گئے جس سے گرڈ اسٹیشن میں آگ لگ گئی اور وہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

ذرایع کے مطابق حملے میں دو افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ حملہ آور 10 افراد کو اغوا کرکے لے گئے تھے جن میں سے بعد ازاں واپڈا آفیسر سمیت 6 افراد کی لاشیں قریبی میدان سے ملیں یوں مجموعی طور پر مرنے والوں کی تعداد 8 ہوگئی ہے جب کہ عملے کے 4 افراد ہنوز لاپتہ ہیں۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق پشاور میں پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ 50 عسکریت پسندوں نے گرڈ اسٹیشن پر عقب سے حملہ کیا اور دیواروں کو دھماکے سے اڑانے کے بعد گرڈاسٹیشن میں داخل ہوئے، حملہ آور بھاری اسلحے سے لیس تھے، اس موقعے پر شدت پسندوں اور گرڈ اسٹیشن کی ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

حملے کے اطلاع ملتے ہی پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ کوہاٹ، پشاور سٹی، رحمن بابا، پبی انڈسٹریل اور بارہ گرڈ اسٹیشن بھی مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔ پیسکو ترجمان کے مطابق گرڈ اسٹیشن میں مجموعی طور پر ایک ارب روپے کا نقصان ہوا ہے،حملے کے بعد کئی علاقوں میں بجلی کی سپلائی منقطع ہوگئی تاہم بحالی کا کام جاری ہے۔

علاوہ ازیں پشاور میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد واپڈا کی تمام تنصیبات پر سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ ملک میں جاری انتخابی موسم کے پیش نظر دہشت گردی کے ان واقعات کو ایک وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے لیکن سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر انتخابات کا التوا کسی طور بھی فائدہ مند نہیں ہوگا۔ ایسے میں سیکیورٹی لیپس کو کم سے کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔دہشت گرد یا وہ عناصر جو جمہوریت سے ہمیشہ ناخوش رہتے ہیں کسی نہ کسی بہانے سے نظام کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔

ملکی میڈیا خبردار کرچکا ہے کہ بعض انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی دھمکی بھی دے چکی ہیں، واضح رہے کہ طالبان فیکٹر کی ملک کے ہر حصے میں موجودگی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ کراچی میں بھی طالبانائزیشن جڑ پکڑتی جا رہی ہے ، گزشتہ چند روز سے کراچی میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے کافی رپورٹیں سامنے آچکی ہیں اور اب تقریباً تمام ہی سیاسی پارٹیاں اس بات پر متفق ہیں کہ طالبان نے اس ملک کو اپنا ہدف بنا لیا ہے ۔

طالبان کے کالعدم تنظیموں سے روابط کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ کالعدم تنظیمیں مختلف ذرایع سے سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ رابطے میں ہیں، وزارت داخلہ کے ذرایع کے مطابق کالعدم تنظیموں سے روابط پر 105 سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا گیا ہے، کالعدم تنظیموں سے مبینہ روابط کی وجہ سے سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آپریشنز غیر موثر ثابت ہوتے ہیں۔

اطلاع کے مطابق ان اہلکاروں میں سے پنجاب کے 29، خیبرپختونخوا کے 30، سندھ21، بلوچستان کے 14 اور 11 اہلکاروں کا تعلق ایف سی سے ہے۔ سیکیورٹی کے حوالے سے یہ اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں، اداروں کو اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کو تلاش کرنا ہوگا تاکہ امن و امان کی صورت حال کو یقینی بنایا جاسکے۔