جشن آزادی اور ہم

ہر طبقے کے لوگوں کو اپنی جیب کے مطابق کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے


شیریں حیدر August 16, 2026

مانچسٹر کی فضا بھی اس دن اتنی گرم تھی کہ سانس بند ہو رہی تھی، باہرنکلو تو جیسے لو کے تھپیڑے لگ رہے ہوں اور گھر کے اندر بیٹھو تو گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔ درجہء حرارت چیک کیا تو وہ اکتیس ڈگری تھا، ہم پاکستان میں اس سے کہیں زیادہ درجہء حرارت میں رہنے کے عادی مگر یہاں اتنی گرمی بھی انتہا کی لگ رہی تھی۔

یہاں پر چونکہ گرمی کا موسم کبھی اتنا شدید ہوا نہیں، اس لئے یورپی ممالک میں پہلے سے بنے ہوئے گھر اسی طرح گرم محسوس ہوتے ہیں، چھت کے پنکھے لگانے کی گنجائش نہیں اور پیڈسٹل اور ٹیبل فین پوری شدت سے کوشش کررہے ہوتے ہیں کہ کسی طرح کمروں کو ذرا سا ہوا دار بنا دیں۔

پاکستان تمام تر یورپی ممالک، امریکہ ، کینیڈا اور مڈل ایسٹ سے آگے ہے، یعنی وقت میں۔ اس گرم گرم شام کو پاکستان سے جتنے بھی پیغامات اوروڈیو کلپ آرہے تھے، وہ چودہ اگست کے حوالے سے تھے ، جی وہ تیرہ اگست کا دن تھا اور پاکستانیوں کے لئے جشن آزادی کی چاند رات۔ فون پر Whatsapp یوم آزادی مبارک کے پیغامات سے ابل رہا تھا۔

پاکستان میں ہر سال چودہ اگست کو ہم آزادی کا دن مناتے ہیں، اس کے لئے مہینہ بھر پہلے سے ہی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں، جھنڈوں، جھنڈیوں، جھنڈے کے ڈیزائن کی شرٹ، دوپٹے، چادریں، عینکیں ، ٹوپیاں اور باجوں کے ٹھیلوں سے بازار سج جاتے ہیں اور  لوگ ان کی خریداری میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

ہر طبقے کے لوگوں کو اپنی جیب کے مطابق کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے، ہر برانڈ پر سبز رنگ کے کپڑے خریدتے اور اس دن کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ جب وہ اپنے گھروں پر جھنڈے لہرائیں گے، سبز اور سفید رنگ کے کپڑے پہنیں گے ، پکوان بنائیں گے اور مل جل کر کھائیں گے۔

میڈیا کے حوالے سے دیکھا جائے تو نت نئے ترانے تیار کئے جاتے ہیں اور نوجوان نسل میں جذبہء حب الوطنی بیدار کیا جاتا ہے۔ نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ملک میںبھی نوجوان اپنے ملک کی آزادی کا دن جوش و خروش سے مناتے ہیں، گاڑیوں پر سبز ہلالی پرچم لگاتے ہیں، گاڑیوں کی لائٹوں پر سبز کاغذ لگاتے ہیں جس سے سبز رنگ کی روشنی منعکس ہوتی ہے۔ گاڑیوں کے ہارن بجاتے ہیں اور اونچی آواز میں ملک سے محبت کے ترانے لگاتے اور بھنگڑے ڈالتے ہیں۔

میں جب دوسرے ممالک کا سفرکرتی ہوں تو میں ان ممالک کی ترقی کا مشاہدہ کرتی ہوں۔  چین کے سفر سے واپس لوٹی تو میں سوچتی تھی کہ ہم دو اڑھائی سو برس میں، ترقی کی دوڑ میں چین کے قریب پہنچ جائیں گے لیکن اس وقت چین کہاں پہنچ چکا ہو گا، اس کا اندازہ کرنا مشکل ہو گا۔

اب انگلینڈ کے قیام کے دوران میں سوچتی ہوں کہ ہم یورپین ممالک کے قریب اگر ترقی کی دوڑ میں سو سال میں پہنچ بھی گئے تو اس وقت یہ ممالک ہم سے سو برس اور آگے جا چکے ہوں گے۔

 ہم پر حکومت کر کے انگریز واپس لوٹے تو انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہم اتنے عاقل اور ذہنی بالغ نہ ہوجائیں کہ سائنسی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں ۔انہوں نے جانے سے پہلے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہمیں اس قدر پسماندگی میں دھکیل کر جائیں کہ ہمیں اس میں سے نکلنے میں ہی صدیاں لگ جائیں۔

ہم اپنی چال بھول کر ان کی چال چلتے چلتے ہلکان ہو جائیں، نہ ہم اپنے جوگے رہیں نہ اپنے ملک جوگے۔ ہمارے ملک میں ہم خود ہی خود کو اجنبی سمجھتے رہیں، ان کی زبان بولنا اور ان جیسے لباس پہننا ہمارے لیے ترقی کے معیار ٹھہریں، ہم پیدا اپنے ملک میں ہوں، پلیں بڑھیں اسی ملک میں مگر جب وقت آئے کہ ہم اپنے ملک کے لئے کچھ کر سکیں، جو کچھ ہمارے ملک نے ہمیں دیا، وہ ہم اسے لوٹائیں۔ 

اس وقت ہم اس کاوش میں لگ جاتے ہیں کہ کس طرح اس ملک سے نکل کر جائیں، جس ملک نے ہمیں اس وقت تک سب کچھ دیا ہوتا ہے ہم اس ملک کی برائیاں کرنے لگتے ہیں۔

باہر جاتے ہیں تو اس وقت بڑے مان سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ بس دو چار سال کے لئے باہر جائیں گے اس کے بعد واپس آکر اپنے ملک کی خدمت کریں گے اوروہ ’’ اس کے بعد‘‘ کبھی نہیں آتی اور پردیس ہمیں آکٹوپس کی طرح اپنے پنجوں میں جکڑ لیتا ہے جس کے شکنجے سے ہم کبھی نکل ہی پاتے۔

سال میں چار دن ہمیں پردیس یاد آتاہے، دو عیدوں پر، یوم آزادی پر اور ایک دن شاید کسی اور موقعے پر۔ ہم پکے پردیسی بن جاتے ہیں اور جب تک والدیں زندہ ہوتے ہیں تب تک اپنے دیس واپس جانے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں، ان کے جانے کے بعد وہ خواب بھی مر جاتے ہیں۔

پھر دیار غیر میں یوم آزادی پر بھنگڑے ڈالتے ہوئے اپنے اندر کے غم کو دباتے ہیں، ایک دوسرے کو ہرے رنگ کے دل کے ای موجی بھجواتے ہیں۔ جب کوئی پاکستان سے سیر کے لیے آتا ہے اور کسی وقت اپنے دیس کے حالات کے بارے میں کہتا ہے کہ حالات تھیک نہیں ہیں، تو بیرون ملک رہنے والے واویلا کرتے ہیں حالانکہ وہ کیسے شکوہ کرسکتے ہیں کیونکہ جن لوگوں کو تعلیم حاصل کرکے پاکستان کا سرمایہ بننا تھا، وہ ملک کو چھوڑ کر پردیس میں آن بیٹھے ہیں ۔

کاش ایسا ہو کہ ہم ملک کے ان اہم مسائل کا ادراک حاصل کر کے انہیں حل کرنے کی کوششوں میں ایک ہوجائیں، وہ مسائل جنہوں نے ہماری ترقی کو مسدود اور محدود کر رکھا ہے - جنہوں نے ہمیں پچھلی صدی کے دور میں باندھ رکھا ہے۔

کاش سب سے پہلے ہم تعلیم کی اہمیت کو جان لیں، ملک کی ترقی میں سرگر م ہوں چاہے ہم کتنے ہی کم حیثیت کیوں نہ ہوں۔ آپسیں اختلافات بھلا کر ایک قوم کیوں نہ بن جائیں، مذہب، فرقے، صوبے، زبان اور ذات پات کی بنیادوں پر بٹ کر کمزور پڑنے کی بجائے، خود کو پاکستانی صرف سمجھنے لگیں۔

ملک کے وفادار بن جائیں، جو کچھ بھی کریں وہ ذاتی مفادات سے بالا ہو کر اجتماعی مفاد کے لئے کریں۔ وہ اقدار جو عام انسانوں کے ہجوم کو ایک قوم بناتے ہیںان اقدار کو اپنا لیں، حقوق کے مطالبات کے ساتھ اپنے فرائض کا بھی ادراک کریں اورجہاں ممکن ہو، ملک کی خاطر قربانی سے دریغ نہ کریں ۔

اگر کوئی غلط کام کر رہا ہے تو اسے احساس دلائیں، بے حسی اور بے اعتنائی کی عادت ہو چلی ہے، اسے بدلنے کی ضرورت ہے، دوسروں کی ان غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے کو برا محسوس نہ کریں، صرف وہ غلطی جو ملک کے لئے نقصان دہ ہو۔

جھنڈے لہرا لینے، جھنڈیاں اور بتیاں لگانے، گالوں پر پرچم کے سٹکر لگا لینے، آنکھوں پر ہرے شیشوں والی عینک لگانے کہ جس سے سب ہرا ہرا نظر آتا ہے، جھنڈے کے ڈیزائن کی ٹوپیاں سر پر سجا لینے اور پرچم کے ڈیزائن کے لباس پہن لینے اور پھر اپنی تصویریں کھینچ کر سوشل میڈیا پر لگا لینے سے کیسے لگتا ہے کہ ہم ترقی یافتہ اور مہذب قوم ہیں ۔

میں سوشل میڈیا پر ان تمام بد تمیزیوں کے کلپ دیکھ رہی تھی جو ہمارے ملک میں چودہ اگست شروع ہوتے ہی ہونا شروع ہوجاتے ہیں، ہوائی فائرنگ، گروپوں کے مابین لڑائیاں کہ جن میں بوتلیں توڑ توڑ کر ایک دوسرے کے سروں میں ماررہے ہوتے ہیں، باآواز میوزک لگا کر اس کی تھاپ پرر قص ہوتے ہیں، سڑکوں پر خالی بوتلوں اور ریپرز کے ساتھ ساتھ جھنڈوں اور جھنڈیوں کا کچرا بکھرا ہوتا ہے۔