پاکستان کی معاشی صورتحال

آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ ’’پاکستان کی معاشی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے‘‘۔


Zaheer Akhter Bedari March 23, 2018
[email protected]

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے پاکستان کی حکومت کو بجلی پر اضافی سرچارج لگانا چاہیے، آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ معاشی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے پاکستان کو اپنے روپے کی قدر میں کمی کرنا چاہیے۔

آئی ایم ایف ہمارا ہی نہیں بلکہ تمام پسماندہ ملکوں کا مائی باپ ہے اور جب وہ پسماندہ ملکوں کو کوئی مشورہ دیتا ہے تو یہ مشورہ عموماً حکم کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

پاکستان میں پٹرول اور بجلی دو ایسی ضروریات زندگی ہیں جن کی قیمتوں میں آئے دن بلاتکلف اضافہ کردیا جاتا ہے ابھی اسی ماہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے پٹرول کی طرح بجلی بھی عوام کی ناگزیر ضرورت ہے، اس میں بھی مسلسل اضافہ کیا جاتا ہے۔

ہماری حکومت بار بار عوام کو یہ خوشخبری سنا رہی ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کردی گئی ہے جب کہ ہر شہر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے اب بہانہ یہ بنایا جا رہا ہے کہ لوڈشیڈنگ ان علاقوں میں ہو رہی ہے جن علاقوں میں بل ادا نہیں کیے جا رہے ہیں۔

ہماری حکومت عوام کو بار بار یہ خوشخبری سنا رہی ہے کہ ہمارے دور حکومت میں ملک مسلسل ترقی کر رہا ہے کہ پسماندہ ملکوں میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔

دوسری طرف آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ ''پاکستان کی معاشی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اسے بجلی پر اضافی سرچارج لگانا پڑے گا اور اپنے روپے کی قیمت میں کمی کرنا ہوگی۔ اس صورتحال پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ''من چہ می سرائم و طنبورہ من چہ می سرائید''

ہم حیران ہیں کہ کیا آئی ایم ایف کے سربراہوں کو یہ علم نہیں کہ سوئس بینکوں میں ''پاکستانیوں'' کے 200 ارب ڈالر جمع ہیں اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کرپشن کا پیسہ ہے۔ کیا آئی ایم ایف حکومت پاکستان کو یہ مشورہ نہیں دے سکتا کہ پاکستان کی حکومت اپنی مالی دشواریوں پر قابو پانے کے لیے وہ 200 ارب ڈالر ضبط کرلے جو حرام کی کمائی ہے۔

آئی ایم ایف اس قسم کا مشورہ اس لیے نہیں دے سکتا کہ 200 ارب ڈالرکے مالکان وہ لوگ ہیں جو آئی ایم ایف کے ''پیر بھائی'' کہلاتے ہیں۔ ان پر تو نہ آئی ایم ایف ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے نہ ہماری حکومت ان پر ہاتھ ڈالنا چاہتی ہے البتہ آئی ایم ایف اور حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عام غریب لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے کو جائز اقدام کہتے ہیں۔

اس حوالے سے اس حکومتی موقف کا ذکر ضروری ہے کہ ''ہمارا ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اپوزیشن اس ترقی میں روڑے اٹکا رہی ہے۔'' ہمارے حکمران یہ دعوے کرتے رہے ہیں کہ ماضی کی کسی حکومت کے دوران ہمارا زرمبادلہ اتنا کبھی نہیں تھا جتنا ہماری حکومت کے دوران رہ رہا ہے۔

آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلے کے ذخائر اب صرف 12.8 ارب ڈالر رہ گئے ہیں جو کسی بھی حکومت کے دوران رہنے والے کم ذخائر میں شمار ہوتے ہیں کیا حکومتی دعوؤں اور آئی ایم ایف کے اعداد و شمار میں کوئی فرق دکھائی دیتا ہے؟

یہ بات عام آدمی کی سمجھ سے بھی باہر ہے کہ جب بھی کوئی معاشی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو ملک کے 20 کروڑ غریب عوام کی پہلے سے پتلی رہنے والی گردن ہی ناپی جاتی ہے، ان گینڈوں کی بھاری گردن کی طرف کسی کا ہاتھ نہیں جاتا جن کی گردنیں اور پیٹ حرام کھا کھا کر موٹے ہوگئے ہیں۔

اس حوالے سے ہم اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے ملک کے بااثر طبقات نے بینکوں سے ڈھائی کھرب روپوں کا قرض لے کر معاف کرا لیا ہے، اس کے خلاف میڈیا میں مسلسل خبریں آتی رہی ہیں کہ ڈھائی کھرب قرض لے کر معاف کروا لینے والے ایسے بااثر لوگ ہیں جن پر ہاتھ ڈالنے کی کسی کو جرأت نہیں ہوتی، جب کہ یہ کیس اعلیٰ عدالتوں میں بھی جاچکا ہے۔ ہماری عدلیہ کرپٹ افراد اور اداروں کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہی ہے جس پر عوام خوش ہیں، لیکن عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا بااثر لوگوں کی طرف سے معاف کرالیا جانے والا ڈھائی کھرب کا لون جائزکمائی ہے؟

اس بھاری رقم کے علاوہ میڈیا میں مسلسل یہ خبریں آرہی ہیں کہ ہمارے ملک کی اشرافیہ نے اربوں کی کرپشن کا ارتکاب کیا ہے جن میں حکومت کے اعلیٰ ترین اصحاب بھی شامل ہیں، اگر یہ خبریں درست ہیں تو کیا ملک کو نازک ترین صورتحال سے نکالنے کے لیے اس عوام دشمن اور ملک دشمن اشرافیہ کا گلا نہیں پکڑنا چاہیے؟

ملک کی اس بدترین صورتحال میں ہماری حکومت کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اربوں کھربوں کی بلیک منی کو واپس لانے کے لیے ایمنسٹی دی جا رہی ہے جس کے مطابق باہر کے ملکوں میں اربوں کی بلیک منی رکھنے والی کرپٹ اشرافیہ کو یہ سہولت دی جائے گی کہ وہ 3 سے 5 فیصد تک ٹیکس دے کر اپنی بلیک منی کو وائٹ کرا سکتا ہے۔

اس اعلان میں جب یہ کہا جا رہا ہے کہ باہر کے ملکوں میں رکھا جانے والا یہ اربوں کھربوں کا سرمایہ بلیک منی ہے تو پھر ان کے مالکوں کو 3 سے 5 فیصد ٹیکس دے کر اپنے کالے دھن کو سفیدکرنے کی اجازت دینا کیا ملک اور عوام دوستی کہلایا جاسکتا ہے؟

ہمارے ملک کے 20 کروڑ عوام دو وقت کی روٹی کے لیے محتاج ہیں جب کہ مٹھی بھر اشرافیہ کھربوں روپوں کی مالک بنی بیٹھی ہے۔ سوئس بینکوں میں 200 ارب ڈالر پاکستانیوں کے جمع ہیں۔ بینکوں کا ڈھائی کھرب روپیہ ملک کی بے ایمان اشرافیہ نے ہڑپ کرلیا ہے اربوں روپوں کی کرپشن کے کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

یہ ساری رقم پاکستان کے عوام کی محنت کی کمائی ہے اصولاً اس بھاری رقم کو ضبط کرکے ملک کی بدترین معاشی حالت کو درست کرنے کی کوشش کرنا چاہیے لیکن یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ کالے دھن کے مالکوں کو یہ رعایت دی جا رہی ہے کہ وہ صرف 3 سے 5فیصد ٹیکس ادا کرکے اپنے کالے دھن کو سفید کراسکتے ہیں۔

مقبول خبریں