سیرت نگاری میں شبلی نعمانی کی کاوشیں اہم ترین ہیں ڈاکٹر یٰسین مظہر

سیرت نبویؐ کی تعلیممادری زبان میں دینےسےحضور پاکؐ کی زندگی کےپہلوؤں سےبہترآگاہی مل سکتی ہے،جامعہ اردو میں لیکچرسےخطاب.


Staff Reporter April 09, 2013
اردو سیرت نگاری مدت تک عربی کی محتاج رہی،سیرت نگاری نے زیادہ مواد احادیث سے لیا،خواتین بھی سیرت پر مقالے تحریر کررہی ہیں. فوٹو: ایکسپریس/فائل

وفاقی اردویونیورسٹی کی سیرت چیئر کے تحت''اردو سیرت نگاری، مسائل اور مباحث'' کے موضوع پر منعقدہ توسیعی لیکچر میں بھارتی اسکالر پروفیسر ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی نے کہا ہے کہ طلبا کو سیرت نبویؐ کی تعلیم مادرری زبان میں دینے سے وہ زیادہ بہتر طریقے سے حضور پاکؐ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ ہوتے ہیں سیرت نبویؐ پر عمل سے انفرادی،اجتماعی،سیاسی ، معاشی اور معاشرتی زندگی کامیاب بنائی جاسکتی ہے ۔

لیکچر سے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ظفر اقبال اور ڈاکٹر عزیز الرحمن نے بھی خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر افضل احمد ،پروفیسر سیما ناز ،ڈاکٹر سلیمان ڈی محمد اور دیگر نے شرکت کی، ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عربی سیرت نگاری نے سب سے زیادہ مواد احادیث سے لیا،اردو سیرت نگاری مدت تک عربی سیرت نگاری کی محتاج رہی19ویں صدی کے آغاز میں تراجم کے علاوہ اردو سیرت نگاری پر تحقیقی کام شروع ہوااور مختصر میلاد نامے شائع ہونے لگے اردو سیرت نگاری میں شبلی نعمانی کی کاوشیں اہم ہے ،سید سلیمان ندوی نے ان کے کام کو آگے بڑھایاان کے علاوہ قاضی سلیمان منصوری،عبدالرؤف دانہ پوری، مولانا مودودی، نعیم صدیقی،قاضی زین العابدین، سجاد میرٹھی، محمود احمد غازی کی کاوشیں بھی شامل ہیں،



پاکستان میں اردو سیرت نگاری پر گراں قدر کام کیا گیا ہے اور اب خواتین بھی اس موضوع پر تحقیقی مقالے تحریر کررہی ہیں،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا کہ انھوں نے دو ماہ قبل جس سیرت چیئرکے قیام کا اعلان کیا تھا آج وہاں پہلے لیکچر کا اہتما م ہواہے زندگی میں دو چیزیں اہم ہیں قرآن فہمی اور سیرت پر چلنا ان پر عمل کرکے ہر مسلمان اپنی زندگی خوشگوار بناسکتا ہے ،ڈاکٹر عزیز الرحمن نے کہا کہ ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی نے اردو ، عربی اور انگریزی میں 40 سے زائد کتابیں اور300 سے زائد تحقیقی مقالات تحریر کیے ہیں13جلدوں پر مشتمل سیرت نبویؐ کے نقوش کی ایڈیٹنگ ومشاورت میں بھی انکا اہم کردار رہا ہے1400سے زائد صفحات پر انھوں نے سیرت نبویؐ کے مصادر پر تحقیق کی ہے ،طلبہ کیلیے اعزاز کی بات ہے کہ پروفیسر یٰسین مظہر صدیقی انھیں گراں قدر معلومات دینے کیلیے بھارت سے تشریف لائے ہیں۔

مقبول خبریں