پوپ فرانسس کا شام اور فلسطین میں جاری مظالم رکوانے کیلیے اقدامات پر زور

عالمی قوتوں کو جنگ زدہ شام کے تنازعے کو حل کر کے عوام کو سکھ کا سانس لینا کا موقع دینا چاہیے، پوپ فرانسس


ویب ڈیسک April 02, 2018
پوپ فرانسیس نے ایسٹر کے موقع پر پُر ہجوم اجتماع سے روایتی خطاب کیا۔ فوٹو : سوشل میڈیا

لاہور:

عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے دنیا بھر کے رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ شام، فلسطین اور یمن میں خون ریزی کے فوری خاتمے کے لیے اقدام کریں۔


بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق پوپ فرانسس نے ایسٹر پر اٹلی کے شہر روم میں سینٹ پیٹرز اسکوائر میں جمع ہونے والے افراد سے اپنے روایتی خطاب میں کہا کہ عالمی قوتوں کو جنگ زدہ شام کے تنازعے کو حل کر کے عوام کو سکھ کا سانس لینا کا موقع دینا چاہیے، شام کے عوام بظاہر نہ ختم ہونے والی جنگ سے تھک چکے ہیں، اب یہ جنگ بند ہو جانی چاہیے۔

مشرق وسطی اور بالخصوص فلسطین سے متعلق پوپ فرانسیس کا کہنا تھا کہ سرزمین مقدس میں انسانی جانوں کا ضیاع نہایت افسوس ناک ہے، فلسطین، یمن اور تمام مشرف وسطیٰ میں کشیدگی کا خاتمہ ہونا چاہیے، تقسیم، تشدد و نفرت کی جگہ مفاہمت، اتحاد اور امن کو لے لینا چاہیے اس حوالے سے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

پوپ فرانسس نے انسانی حقوق کے قوانین، اور پناہ گزینوں کے مسائل کو زیر بحث لاتے ہوئے کہا کہ پناہ گزینوں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے جس کے سدباب کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جانی چاہیے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود شخص کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہیے اور جنگ کے بجائے امن اور اسلحہ کے بجائے علم کے موتی بانٹنے کی ضرورت ہے۔

پوپ فرانسیس نے شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان تنازعات کو امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تناؤ کے ذمہ دار افراد کو فہم و فراست کے ساتھ مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہیے تاکہ امن و یگانگت کی فضا قائم ہو اور بے یقینی اور خوف کے بادل چھٹ جائیں۔ یہ دنیا ہمارے پاس امانت ہے جس میں امن، پیار اور رواداری کو قائم رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ پوپ فرانسیس نے اپنے دورِ پاپائیت کے پہلے پانچ برسوں کے دوران شام میں ہونے والے خون خرابے کی مسلسل مذمت کی ہے جب کہ 2013 میں انھوں نے شام میں مغربی فوجوں کی مداخلت کی بھی خلاف ورزی کی تھی۔