شفاف انتخابی عمل کے لیے حکومتی اقدامات

اگر خدانخواستہ انتخابات کا وجود خطرے میں پڑ جائے تو جمہوریت کی گاڑی ڈی ریل ہونے کے خدشے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔


Editorial April 11, 2013
دہشت گردی کی وارداتوں کے تناظر میں سیاستدانوں کی زندگیوں کو سنگین خطرہ موجود ہے جس سے انتخابی عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ فوٹو: فائل

انتخابی عمل کو شفاف' منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لیے حکومتی سطح پر بھرپور اقدامات کیے جارہے ہیں۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو انتخابی عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ذمے داروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

بدھ کو ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری سے گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود اور نگراں وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی کی ہونے والی ملاقات کے موقع پر صدر مملکت نے پنجاب حکومت پر زور دیا کہ وہ صوبے میں آزادانہ' منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے۔

دوسری جانب نگراں وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو نے بلوچستان کا دورہ کیا۔ انھوں نے گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی' نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب غوث بخش باروزئی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے ملاقات کے دوران شفاف انتخابات کے انعقاد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں مشترکہ تعاون سے انتخابی عمل مکمل کریں گی۔

صدر مملکت آصف علی زرداری اور نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کی ان مصروفیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں اعلیٰ شخصیات ملک میں غیرجانبدارانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے انتہائی سنجیدہ اور پر عزم ہیں۔اس وقت پوری قوم کی نظریں مرکزی اور صوبائی نگراں حکومتوں کی جانب لگی ہوئی ہیں، انھیں امید ہے کہ وہ ان کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے انتخابی عمل کا شفاف اور غیرجانبدارانہ انعقاد یقینی بنائیں گی۔ جمہوریت کا تسلسل انتخابی عمل کے شفاف انعقاد سے وابستہ ہے۔

اگر خدانخواستہ انتخابات کا وجود خطرے میں پڑ جائے تو جمہوریت کی گاڑی ڈی ریل ہونے کے خدشے کو رد نہیں کیا جا سکتا جس سے ملک میں سیاسی انتشار اور افراتفری جنم لے گی۔ جمہوریت دشمن قوتیں ابھی تک چین سے نہیں بیٹھیں،وہ کوئی شرارت کرسکتی ہیں۔ انھیں ناکام بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔ جمہوری عمل کو استحکام بخشنے کے لیے انتخابات کا انعقاد بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ایک طویل عرصے سے بعض قوتیں جمہوری عمل کو پس منظر میں دھکیلنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کی جانب سے یہ افواہیں اڑائی جاتی رہیں کہ جمہوری حکومت ناکام ہو چکی ہے، یہ قوتیں آمریت کا راستہ ہموار کرنا چاہتی ہیں۔

ان تمام تر افواہوں کے باوجود جمہوری حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی اور نگراں حکومتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اب نگراں حکومتوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ انتخابی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مشترکہ تعاون کو یقینی بنائیں۔ اگر انتخابات کی شفافیت پر کسی بھی جانب سے انگلی اٹھتی ہے تو اس سے عوامی اعتماد اور جذبات مجروح ہوں گے۔ اس وقت بعض قوتیں انتخابی عمل کو مشکوک بنانے کے لیے امن و امان کے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا' بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں بالخصوص بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال پر تمام سیاسی جماعتوں کو بھی تشویش لاحق ہے اور وہ نگراں حکومت کی توجہ اس جانب دلا رہی ہیں۔ یہاں دہشت گردوں سے نمٹنے اور امن و امان کا نفاذ یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کرنے ہوں گے۔ فوجی حکام بھی بارہا یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ وہ انتخابی عمل کے بلا رکاوٹ انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔

دہشت گرد گروہ جمہوری نظام کے خلاف اپنی نفرت کا کھلے بندوں اظہار کرچکے ہیں، وہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے سیاستدانوں کو دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ دہشت گردی کی وارداتوں کے تناظر میں سیاستدانوں کی زندگیوں کو سنگین خطرہ موجود ہے جس سے انتخابی عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ چند روز قبل وفاقی وزیر داخلہ بھی اس جانب خصوصی توجہ دلا چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بدھ کو وفاقی وزیر داخلہ نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں امن و امان اور سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تمام صوبوں کے آئی جی حضرات کو ہدایت کی کہ وہ سیاسی رہنمائوں کی گریڈنگ اور سیکیورٹی خدشات کے مطابق ان کی حفاظت کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنائیں۔

امن و امان کی خراب صورتحال نگراں حکومت کے لیے بہت بڑے چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ دہشت گرد انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے اپنی مذموم کارروائیاں کر رہے ہیں ایسے میں سیکیورٹی اداروں پر بھاری ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے جدید طریقے اپنائیں۔ عوام ملک میں ہر ممکن طور پر جمہوری تسلسل قائم رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں اپنے منتخب نمایندوں سے توقعات وابستہ ہوتی ہیں کہ وہ ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔

جمہوریت میں وہ نمایندے جو عوامی توقعات پر پورے نہیں اترتے انھیں عوام انتخابات میں رد کر دیتے ہیں اس طرح انتخابات عوامی نمایندے کے احتساب کا بہترین طریقہ ہیں۔ ماضی کی حکومتوں کی کارکردگی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عوامی نمایندوں کی توجہ کا مرکز زیادہ سے زیادہ ترقیاتی فنڈز کا حصول رہا ہے۔ منتخب نمایندوں کا اصل کام ملک کے نظام کو درست سمت میں رواں رکھنے کے لیے قانون سازی کرنا ہے نہ کہ ترقیاتی فنڈز کا حصول۔ ان پر ترقیاتی فنڈز میں کرپشن کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

کرپشن میں ملوث نمایندوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے بھی بدھ کو ایک کیس میں اسی جانب توجہ دلائی ہے کہ عوامی نمایندوں کا کام قانون سازی کرنا ہے' انھیں ترقیاتی فنڈز کس قانون کے تحت دیے جاتے ہیں۔ عدالت نے اس افسوسناک امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ صوبہ بلوچستان کی ترقی کے لیے اربوں روپے جاری ہوئے لیکن عوام کی فلاح کے لیے کوئی کام نہیں ہوا۔

وہاں پسماندگی کا یہ عالم ہے کہ خواتین اور بچے میلوں دورسے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ عوامی نمایندے پانچ سال تک ترقیاتی کاموں کی آڑ میں ملکی وسائل کا غلط استعمال کرتے رہتے ہیں اور کوئی بھی ان کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہوتا۔ عوامی نمایندوں کی کرپشن روکنے کے لیے باقاعدہ طریقہ کار طے کیا جانا چاہیے۔ انتظامی اداروں میں بھی کرپشن کا موجود ہے لہذا سرکاری اہلکار اور عوامی نمایندے مل کر ملکی وسائل کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ یہ کرپشن ہی ہے جس کے باعث آج پاکستان کو متعدد بحرانوں کا سامنا ہے۔

لہذا الیکشن کمیشن پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کرپشن کے الزامات کی زد میں آئے سیاستدانوں کا راستہ روکے تا کہ اسمبلی میں باکردار اور دیانت دار افراد ہی منتخب ہو کر پہنچیں۔ صرف انتخابات کا انعقاد کرانا ہی مقصد نہیں اس امر کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ ایماندار اور باصلاحیت افراد ہی اسمبلی میں جائیں تا کہ وہ ملک کو درست سمت میں ترقی کی راہ پر ڈال سکیں۔ امید ہے کہ نگراں حکومت انتخابی عمل کو پر امن اور شفاف بنانے کے لیے اپنے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی تا کہ جمہوری سفر بلا کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔