تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان رات گئے مذاکرات کامیاب، احتجاج ختم

ویب ڈیسک  جمعـء 13 اپريل 2018
11 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد جاں بحق کارکنوں کے قتل کا مقدمہ درج، ظفرالحق رپورٹ شائع کرنے پر اتفاق۔ فوٹو: این این آئی

11 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد جاں بحق کارکنوں کے قتل کا مقدمہ درج، ظفرالحق رپورٹ شائع کرنے پر اتفاق۔ فوٹو: این این آئی

اسلام آباد: تحریک لبیک یا رسول اللہ نے رات گئے حکومتی وفد سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرنے کااعلان کردیا جبکہ فیض آباد دھرنے میں جاں بحق تحریک کے کارکنوں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیاگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق تحریک لبیک اور حکومتی ٹیم میں مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ یہ مذاکرات 11 گھنٹے تک جاری رہے۔ دھرنا ختم کرنے کا اعلان پیر افضل قادری نے داتا دربار کے سامنے پریس کانفرنس میں کیا، انہوں نے کہا حکومت ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیتی رہی ، تحریک لبیک کا دھرنا گیارہ دن سے جاری ہے، رہنما ایک لمحے کے لیے باہر نہیں گئے، حکومت کا خیال تھا چند لوگ ہیں، کچھ نہیں کرسکتے، جب تحریک لبیک نے احتجاج کا اعلان کیا ملک کے بیشتر حصے جام ہوکررہ گئے،  حکومت مذاکرات کے لیے مجبور ہوگئی، راجہ ظفرالحق کی رپورٹ ہمارے حوالے کردی گئی ہے، لاؤڈ اسپیکرکے ذریعے چاروں اطراف اذان کی اجازت مل گئی ہے، مذاکرات میں طے پایا کہ رانا ثنااللہ تحریک کے رہنماوں کے سامنے پیش ہونگے۔ تحریک لبیک کے رہنما جو فیصلہ دینگے اس پر عمل کرینگے، حکومت مذاکرات نہ کرتی تو آج جمعہ کے دن پورے ملک میں بھرپور احتجاج ہوتا۔ دوسری جانب علامہ خادم حسین رضوی نے بھی دھرنے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ساتھ دینے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

دھرنا ختم ہونے کے بعد کالا شاہ کاکو انٹرچینج سے کنٹینرز ہٹانے کا عمل جاری ہے جس کے بعد ٹریفک کی بحالی شروع ہوگئی ہےجبکہ کارکن بھی  منتشر ہونا شروع ہوگئے، دھرنا ختم ہونے کے بعد داتا دربار کے سامنے سے رکاوٹیں ہٹا کر راستہ کلیئر کر دیا گیا، موٹر وے کے داخلی راستے بابو صابو انٹرچینج پر بھی ٹریفک بحال اور لاہور اسلام آباد موٹروے اور جی ٹی روڈ پر ٹریفک بحال کردی گئی ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔