لیکویڈ کارگو کلیئرنس کیلیے لیگل فریم ورک متعارف کرایا جائیگا

ایم سی سی پریوینٹوسے کیماڑی آئل سیکشن پرپراسیسنگ سے متعلق تجاویز طلب.


Irshad Ansari April 13, 2013
ایم سی سی پریوینٹوسے کیماڑی آئل سیکشن پرپراسیسنگ سے متعلق تجاویز طلب۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے بڑے پیمانے پر درآمد کیے جانے والے خام تیل، کھانے کے تیل،کیمیکلز اور دیگر مائع بلک کارگو و پٹرولیم مصنوعات کی کسٹمز کلیئرنس کے لیے لیگل فریم ورک متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔

ایف بی آر کے سینئر افسر نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایف بی آر کی طرف سے کلکٹر ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ آف پریوینٹو کسٹمز ہائوس کراچی کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایم سی سی پریوینٹو کراچی کے کیماڑی پر واقع آئل سیکشن پر کام سے متعلق بزنس پراسیس کو اسٹریم لائن کرنے کے لیے طلب کی جانے والی تجاویز پر مبنی رپورٹ جلد ازجلد ایف بی آر کو بھجوائی جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ کلکٹر ایم سی سی پریوینٹو کراچی کو خط کے ذریعے ہدایت کی گئی تھی کہ آئل سیکشن کیماڑی کراچی پر بلک میں آنے والے خام تیل،کیمیکلز، پٹرولیم مصنوعات اور کھانے کے تیل کی کسٹمز کلیئرنس کی گورننس سے متعلق تجاویز تیار کرکے دی جائیں اور یہ بھی بتایا جائے کہ تیل کی کسٹمز کلیئرنس کے حوالے سے کون سے ایشوز اور مسائل درپیش ہیں اور انہیں حل کرنے کیلیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

 



تاکہ لیکویڈ بلک کارگو کی کسٹمز کلیئرنس کو ریگولیٹ کیا جاسکے اور درآمدی بلک آئل کارگو کی کسٹمز کلیئرنس کے موجودہ پروسیجر اور نظام پر بھی نظر ثانی کی جائے اور ایف بی آر کو رپورٹ میں بلک لیکویڈ کارگو کی بل آف لینڈنگ پر ڈیکلیر کردہ مقدار کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور بتایا جائے کیا یہ مقدار امپورٹ جنرل مینی فیسٹ پر بھی ظاہر کی جاتی ہے اور جن جہازوں کے ذریعے یہ کارگو آتا ہے۔

ان جہازوں کے آف شور ٹینکوں میں وصول ہونے والی بلک لیکوئیڈ کارگو کی کتنی مقدار ہوتی ہے اور Ullage رپورٹ کی بنیاد پر جہازوں کے ٹینکوں میں آن بورڈ کتنی مقدار ہوتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ اقدام کا بنیادی مقصد بندرگاہوں پر درآمدی آئل کے کاروبار کو اسٹریم لائن کرنا اور اس پر عائد ڈیوٹی کی مطلوبہ صلاحیت کے مطابق وصولی کو یقینی بنانا ہے۔